حدیث نمبر: 911
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مَرَّ بِالْجَزَّارِينَ فَقَالَ: مَنْ يَذْبَحُ لَكُمْ ؟ فَقَالُوا: هَذَا، فَقَالَ: أَنْتَ تَذْبَحُ لِهَؤُلَاءِ ؟ فَقَالَ: نَعَمْ، فَقَالَ: أَخْبِرْنِي عَنْ صَلَاةِ كَذَا وَكَذَا - فَلَمْ يَدْرِ، فَضَرَبَهُ وَأَخْرَجَهُ مِنَ السُّوقِ، وَضَرَبَ الْجَزَّارِينَ وَقَالَ: يَذْبَحُ لَكُمْ مِثْلُ هَذَا وَاللهُ يَقُولُ: { وَلا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ } . !
مظاہر امیر خان

قاسم بن محمد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ قصابوں کے پاس سے گزرے اور فرمایا: تمہارے لیے کون ذبح کرتا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ شخص۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: کیا تم ان کے لیے ذبح کرتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے فلاں فلاں نماز کے بارے میں بتاؤ۔ وہ نہ بتا سکا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اسے مارا اور بازار سے نکال دیا اور قصابوں کو بھی مارا اور فرمایا: تمہارے لیے ایسا شخص ذبح کرے گا؟ حالانکہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ﴿وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ﴾ یعنی اور اس چیز میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 911
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف للانقطاع بين القاسم وعمر رضي الله عنه.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 911، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 8558»