سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
الْآيَةُ (105) قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَكَذَلِكَ نُصَرِّفُ الآيَاتِ وَلِيَقُولُوا دَرَسْتَ وَلِنُبَيِّنَهُ لِقَوْمٍ يَعْلَمُونَ} باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَكَذَلِكَ نُصَرِّفُ الآيَاتِ وَلِيَقُولُوا دَرَسْتَ» کا بیان
حدیث نمبر: 901
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، سَمِعَ ابْنَ الزُّبَيْرِ يَقُولُ: إِنَّ صِبْيَانَنَا هَاهُنَا يَقُولُونَ: { دَارَسْتَ }، وَإِنَّمَا هِيَ { دَرَسْتَ }، وَيَقْرَؤُونَ { حَمِئَةٍ }، وَإِنَّمَا هِيَ { حَامِيَةً }، وَيَقْرَؤُونَ { وَحَرَّمَ }، وَإِنَّمَا هِيَ (حَرَامٌ)، وَكَانَ ابْنُ عَبَّاسٍ يُخَالِفُهُ فِيهِنَّ كُلِّهِنَّ .مظاہر امیر خان
سیدنا ابن زبیر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ہمارے یہاں کے بچے «دَارَسْتَ» پڑھتے ہیں، حالانکہ اصل میں «دَرَسْتَ» ہے، اور وہ «حَمِئَةٍ» پڑھتے ہیں، حالانکہ اصل میں «حَامِيَةً» ہے، اور وہ «وَحَرَّمَ» پڑھتے ہیں، حالانکہ اصل میں «حَرَامٌ» ہے۔ اور سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما ان تمام قراءتوں میں ان کی مخالفت کرتے تھے۔