حدیث نمبر: 89
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي رَجَاءٍ مُحَمَّدِ بْنِ سَيْفٍ، قَالَ: سَأَلْتُ الْحَسَنَ عَنْ مُصْحَفٍ يُنْقَطُ بِالْعَرَبِيَّةِ ؟ قَالَ: لَا بَأْسَ بِهِ، أَوَمَا بَلَغَكَ عَنْ كِتَابِ عُمَرَ أَنَّهُ كَتَبَ: تَعَلَّمُوا الْعَرَبِيَّةَ، وَتَفَقَّهُوا فِي الدِّينِ، وَأَحْسِنُوا عِبَارَةَ الرُّؤْيَا ؟ قَالَ أَبُو رَجَاءٍ: وَسَأَلْتُ ابْنَ سِيرِينَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: إِنِّي أَخْشَى أَنْ تَزِيدُوا فِي الْحُرُوفِ .مظاہر امیر خان
حسن بن سیف رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ حسن بصری رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا عربی میں مصحف پر نقطے لگانا جائز ہے؟ فرمایا: اس میں کوئی حرج نہیں، کیا تمہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا وہ فرمان نہیں پہنچا کہ انہوں نے لکھا تھا: عربی سیکھو، دین کی سمجھ حاصل کرو، اور خواب کی تعبیر اچھے انداز میں بیان کرو؟ ابو رجاء محمد بن سیف رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے تابعی محمد بن سیرین رحمہ اللہ سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے فرمایا: مجھے ڈر ہے کہ تم حروف میں اضافہ نہ کر دو۔