حدیث نمبر: 884
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا الْحَكَمُ بْنُ ظُهَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، قَالَ: لَمَّا أُرِيَ إِبْرَاهِيمُ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَأَى رَجُلًا عَلَى فَاحِشَةٍ، فَدَعَا عَلَيْهِ فَهَلَكَ، ثُمَّ رَأَى آخَرَ عَلَى فَاحِشَةٍ فَدَعَا عَلَيْهِ فَهَلَكَ، ثُمَّ رَأَى آخَرَ عَلَى فَاحِشَةٍ فَدَعَا عَلَيْهِ فَهَلَكَ، فَأَوْحَى اللهُ إِلَيْهِ: يَا إِبْرَاهِيمُ، مَهْلًا ؛ فَإِنَّكَ رَجُلٌ مُسْتَجَابٌ لَكَ، وَإِنِّي مِنْ عَبْدِي عَلَى ثَلَاثِ خِصَالٍ: إِمَّا أَنْ يَتُوبَ قَبْلَ الْمَوْتِ فَأَتُوبُ عَلَيْهِ، وَإِمَّا أَنْ أُخْرِجَ مِنْ صُلْبِهِ ذُرِّيَّةً يَذْكُرُونِي، وَإِمَّا أَنْ يَتَوَلَّى فَجَهَنَّمُ مِنْ وَرَائِهِ .
مظاہر امیر خان

سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو آسمانوں اور زمینوں کی بادشاہت دکھائی گئی تو انہوں نے ایک آدمی کو فحاشی پر دیکھا، تو اس پر بددعا کی اور وہ ہلاک ہو گیا، پھر دوسرے کو فحاشی پر دیکھا تو اس پر بھی بددعا کی اور وہ بھی ہلاک ہو گیا، پھر تیسرے کو دیکھا تو اس پر بھی بددعا کی اور وہ ہلاک ہو گیا۔ تو اللہ عزوجل نے ان کی طرف وحی فرمائی: اے ابراہیم! ٹھہر جا، کیونکہ تو ایسا شخص ہے کہ تیری دعا قبول کی جاتی ہے، اور میں اپنے بندے کے ساتھ تین طریقوں سے معاملہ کرتا ہوں: یا تو وہ موت سے پہلے توبہ کر لیتا ہے تو میں اس کی توبہ قبول کر لیتا ہوں، یا میں اس کی نسل سے ایسے افراد پیدا کرتا ہوں جو میرا ذکر کرتے ہیں، یا اگر وہ کفر پر مر جائے تو جہنم اس کے پیچھے ہے۔

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 884
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف جدًّا لشدة ضعف الحكم بن ظُهير، وضعف الليث بن أبي سُليم، وضعف شهر بن حوشب من قبل حفظه، والانقطاع بينه وبين سلمان الفارسي - رضي الله عنه -، والاختلاف في سند الحديث الآتي ذكره.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 884، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 32480، 35343»