سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
الْآيَةُ (75) قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ} باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ» کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا الْحَكَمُ بْنُ ظُهَيْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ سَلْمَانَ الْفَارِسِيِّ، قَالَ: لَمَّا أُرِيَ إِبْرَاهِيمُ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ رَأَى رَجُلًا عَلَى فَاحِشَةٍ، فَدَعَا عَلَيْهِ فَهَلَكَ، ثُمَّ رَأَى آخَرَ عَلَى فَاحِشَةٍ فَدَعَا عَلَيْهِ فَهَلَكَ، ثُمَّ رَأَى آخَرَ عَلَى فَاحِشَةٍ فَدَعَا عَلَيْهِ فَهَلَكَ، فَأَوْحَى اللهُ إِلَيْهِ: يَا إِبْرَاهِيمُ، مَهْلًا ؛ فَإِنَّكَ رَجُلٌ مُسْتَجَابٌ لَكَ، وَإِنِّي مِنْ عَبْدِي عَلَى ثَلَاثِ خِصَالٍ: إِمَّا أَنْ يَتُوبَ قَبْلَ الْمَوْتِ فَأَتُوبُ عَلَيْهِ، وَإِمَّا أَنْ أُخْرِجَ مِنْ صُلْبِهِ ذُرِّيَّةً يَذْكُرُونِي، وَإِمَّا أَنْ يَتَوَلَّى فَجَهَنَّمُ مِنْ وَرَائِهِ .سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: جب سیدنا ابراہیم علیہ السلام کو آسمانوں اور زمینوں کی بادشاہت دکھائی گئی تو انہوں نے ایک آدمی کو فحاشی پر دیکھا، تو اس پر بددعا کی اور وہ ہلاک ہو گیا، پھر دوسرے کو فحاشی پر دیکھا تو اس پر بھی بددعا کی اور وہ بھی ہلاک ہو گیا، پھر تیسرے کو دیکھا تو اس پر بھی بددعا کی اور وہ ہلاک ہو گیا۔ تو اللہ عزوجل نے ان کی طرف وحی فرمائی: اے ابراہیم! ٹھہر جا، کیونکہ تو ایسا شخص ہے کہ تیری دعا قبول کی جاتی ہے، اور میں اپنے بندے کے ساتھ تین طریقوں سے معاملہ کرتا ہوں: یا تو وہ موت سے پہلے توبہ کر لیتا ہے تو میں اس کی توبہ قبول کر لیتا ہوں، یا میں اس کی نسل سے ایسے افراد پیدا کرتا ہوں جو میرا ذکر کرتے ہیں، یا اگر وہ کفر پر مر جائے تو جہنم اس کے پیچھے ہے۔