سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ حِينَ الْوَصِيَّةِ اثْنَانِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ أَوْ آخَرَانِ مِنْ غَيْرِكُمْ} إِلَى قَوْلِهِ: {وَمَا اعْتَدَيْنَا إِنَّا إِذًا لَمِنَ الظَّالِمِينَ} باب: اللہ تعالیٰ کے قول «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا شَهَادَةُ بَيْنِكُمْ إِذَا حَضَرَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ» کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا الشَّعْبِيُّ، أَنَّ رَجُلًا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ بِدَقُوقَاءَ، فَلَمْ يَجِدْ أَحَدًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ يُشْهِدُهُمْ عَلَى وَصِيَّتِهِ، فَأَشْهَدَ رَجُلَيْنِ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَقَدِمَا بِتَرِكَتِهِ إِلَى أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ فَأَخْبَرَاهُ، فَقَالَ الْأَشْعَرِيُّ: هَذَا أَمْرٌ لَمْ يَكُنْ بَعْدَ الَّذِي كَانَ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَحْلَفَهُمَا بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ بِاللهِ مَا خَانَا، وَلَا كَذَبَا، وَلَا بَدَّلَا، وَأَنَّهَا لَتَرِكَتُهُ، ثُمَّ أَجَازَ شَهَادَتَهُمَا .عامر شعبی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: ایک شخص دقوقاء میں وفات پا گیا، اور وہاں کوئی مسلمان موجود نہ تھا جسے وہ اپنی وصیت پر گواہ بناتا، تو اس نے اہلِ کتاب میں سے دو افراد کو گواہ بنایا۔ وہ دونوں اس کی میراث لے کر سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور انہیں خبر دی۔ سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یہ ایسا معاملہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیش نہیں آیا تھا۔ پھر انہوں نے دونوں گواہوں کو عصر کی نماز کے بعد قسم دی کہ اللہ کی قسم! ہم نے خیانت نہیں کی، نہ جھوٹ بولا، نہ وصیت میں کوئی تبدیلی کی، اور یہ واقعی اسی شخص کی میراث ہے۔ پھر سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے ان دونوں کی گواہی کو معتبر قرار دے دیا۔