سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ وَإِنْ تَسْأَلُوا عَنْهَا حِينَ يُنَـزَّلُ الْقُرْآنُ تُبْدَ لَكُمْ عَفَا اللهُ عَنْهَا وَاللهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ * قَدْ سَأَلَهَا قَوْمٌ مِنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ أَصْبَحُوا بِهَا كَافِرِينَ * مَا جَعَلَ اللهُ مِنْ بَحِيرَةٍ وَلا سَائِبَةٍ وَلا وَصِيلَةٍ وَلا حَامٍ وَلَكِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا يَفْتَرُونَ عَلَى اللهِ الْكَذِبَ وَأَكْثَرُهُمْ لا يَعْقِلُونَ} باب: اللہ تعالیٰ کے قول «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ» کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا عَتَّابٌ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ } قَالَ: يَعْنِي الْبَحِيرَةَ، وَالسَّائِبَةَ، وَالْوَصِيلَةَ، وَالْحَامَ، أَلَا تَرَى أَنَّهُ يَقُولُ: مَا جَعَلَ اللهُ مِنْ كَذَا وَكَذَا، وَأَمَّا عِكْرِمَةُ فَإِنَّهُ قَالَ: كَانُوا يَسْأَلُونَ عَنِ الْآيَاتِ فَنُهُوا عَنْ ذَلِكَ، ثُمَّ قَالَ: { قَدْ سَأَلَهَا قَوْمٌ مِنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ أَصْبَحُوا بِهَا كَافِرِينَ } فَقُلْتُ: إِنَّهُ حَدَّثَنِي مُجَاهِدٌ بِخِلَافِ هَذَا، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَمَا لَكَ تَقُولُ هَذَا ؟ فَقَالَ: هَاهْ .سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اللہ عزوجل کے فرمان ﴿لَا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ﴾ کے بارے میں فرمایا: اس سے مراد بحیرہ، سائبہ، وصیلہ اور حام ہیں۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ اللہ عزوجل نے فرمایا ہے: اللہ نے ان میں سے کوئی چیز مقرر نہیں فرمائی۔ جبکہ عکرمہ رحمہ اللہ نے فرمایا: لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے آیات کے متعلق سوال کرتے تھے تو انہیں اس سے منع کر دیا گیا۔ پھر انہوں نے فرمایا: ﴿قَدْ سَأَلَهَا قَوْمٌ مِنْ قَبْلِكُمْ ثُمَّ أَصْبَحُوا بِهَا كَافِرِينَ﴾ یعنی تم سے پہلے بھی ایک قوم نے ایسے سوالات کیے، پھر اس کے منکر ہوگئے۔ اس پر میں نے عکرمہ سے کہا: مجھے تو مجاہد رحمہ اللہ نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس کے خلاف بیان کیا ہے، تو تم ایسا کیوں کہتے ہو؟ انہوں نے کہا: جواب دینے سے عاجز ہو کر ہاں بس ایسا ہی ہے۔