حدیث نمبر: 836
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَدِمْتُ الْبَحْرَيْنِ فَسَأَلَنِي أَهْلُهَا عَمَّا يَقْذِفُ الْبَحْرُ مِنَ السَّمَكِ، فَأَمَرْتُهُمْ بِأَكْلِهِ، فَلَمَّا قَدِمْتُ سَأَلْتُ عُمَرَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ: مَا أَمَرْتَهُمْ ؟ فَقُلْتُ: أَمَرْتُهُمْ بِأَكْلِهِ، فَقَالَ: لَوْ قُلْتَ غَيْرَ ذَلِكَ لَعَلَوْتُكَ بِالدِّرَّةِ، ثُمَّ قَرَأَ عُمَرُ: { أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ } قَالَ: صَيْدُهُ مَا اصْطِيدَ، وَطَعَامُهُ مَا رَمَى بِهِ .
مظاہر امیر خان

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں بحرین آیا تو وہاں کے لوگوں نے مجھ سے پوچھا کہ سمندر جو مچھلی خشکی پر پھینک دے اس کا کیا حکم ہے؟ میں نے انہیں اسے کھانے کا حکم دیا۔ جب واپس آیا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے اس کے متعلق پوچھا۔ انہوں نے فرمایا: تم نے انہیں کیا حکم دیا تھا؟ میں نے کہا: میں نے انہیں کھانے کا حکم دیا تھا۔ فرمایا: اگر تم اس کے علاوہ کچھ اور کہتے تو میں تمہیں درے سے مارتا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ آیت پڑھی ﴿أُحِلَّ لَكُمْ صَيْدُ الْبَحْرِ وَطَعَامُهُ﴾ اور فرمایا: «صَيْدُهُ» وہ ہے جسے خود شکار کیا جائے اور «طَعَامُهُ» وہ ہے جسے سمندر خشکی پر پھینک دے۔

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 836
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لضعف عمر بن أبي سلمة من قبل حفظه، وهو صحيح من غير طريقه مع بعض الاختلاف في السياق كما سيأتي
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 836، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 19050»