سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ وَمَنْ قَتَلَهُ مِنْكُمْ مُتَعَمِّدًا فَجَزَاءٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ} . باب: اللہ تعالیٰ کے قول «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ وَأَنْتُمْ حُرُمٌ» کا بیان
حدیث نمبر: 832
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ: { فَجَزَاءٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ }، قَالَ: إِذَا أَصَابَ الْمُحْرِمُ الصَّيْدَ يُحْكَمُ عَلَيْهِ جَزَاؤُهُ، فَإِنْ كَانَ عِنْدَهُ جَزَاؤُهُ ذَبَحَهُ، وَتَصَدَّقَ بِلَحْمِهِ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ جَزَاؤُهُ قُوِّمَ جَزَاؤُهُ دَرَاهِمَ، ثُمَّ قُوِّمَتِ الدَّرَاهِمُ طَعَامًا، فَصَامَ مَكَانَ كُلِّ نِصْفِ صَاعٍ يَوْمًا، وَإِنَّمَا أُرِيدَ بِالطَّعَامِ الصِّيَامُ، وَإِنَّهُ إِذَا وُجِدَ الطَّعَامُ، وُجِدَ جَزَاؤُهُ .مظاہر امیر خان
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے آیت ﴿فَجَزَاءٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ﴾ کے بارے میں فرمایا: جب مُحرم شکار کر لے تو اس پر اس کا کفارہ واجب ہوگا، اگر اس کے پاس اسی کے مثل جانور موجود ہو تو اسے ذبح کر کے اس کا گوشت صدقہ کر دے، اگر اس کے پاس ایسا جانور نہ ہو تو اس جانور کی قیمت دراہم میں لگائی جائے گی، پھر دراہم کے برابر غلہ کا حساب لگایا جائے گا اور ہر آدھا صاع کے بدلے ایک روزہ رکھا جائے گا۔ یہاں غلہ سے روزے مراد ہیں، اور جب غلہ موجود ہو تو اس کا کفارہ بھی موجود سمجھا جائے گا۔