حدیث نمبر: 83
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: كَانَ يُقَالُ: يُكْرَهُ بَيْعُ الْقُرْآنِ وَشِرَاؤُهُ وَكِتَابَتُهُ عَلَى الْأَجُرِّ، وَكَانَ يُقَالُ: لَا يُورَثُ الْمُصْحَفُ، إِنَّمَا هُوَ لِقُرَّاءِ أَهْلِ الْبَيْتِ، وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُحَلَّى الْمُصْحَفُ، وَأَنْ يُعَشَّرَ أَوْ يُصَغَّرَ، قَالَ: وَكَانَ يُقَالُ: عَظِّمُوا الْقُرْآنَ، وَلَا تَخْلِطُوا بِهِ مَا لَيْسَ مِنْهُ، وَكَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُكْتَبَ بِالذَّهَبِ أَوْ يُعَلَّمَ عِنْدَ رُؤُوسِ الْآيِ، قَالَ: وَكَانَ يُقَالُ: جَرِّدُوا الْقُرْآنَ .مظاہر امیر خان
ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: کہا جاتا تھا کہ قرآن کو بیچنا، خریدنا اور اجرت پر لکھوانا ناپسندیدہ ہے، نیز کہا جاتا تھا کہ مصحف وراثت میں نہیں دیا جاتا، بلکہ وہ گھر کے قاری افراد کے لیے ہوتا ہے، اور یہ بھی ناپسند کیا جاتا تھا کہ مصحف کو مزین کیا جائے، اسے چھوٹا یا بڑا بنایا جائے، کہا جاتا تھا کہ قرآن کی تعظیم کرو اور اس میں غیر متعلقہ چیزیں شامل نہ کرو، سونے سے لکھنا اور آیات کے سروں پر نشانات لگانا ناپسند کیا جاتا تھا، نیز کہا جاتا تھا کہ قرآن کو خالص رکھو۔