حدیث نمبر: 822
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا سُفْيَانُ، قَالَ: نَا أَبُو النَّضِرِ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاوِيَةَ خَمْرٍ، وَكَانَ يُهْدِيهَا إِلَيْهِ، فَقَالَ: إِنَّ اللهَ حَرَّمَهَا بَعْدَكَ، فَقَالَ: أَفَلَا أَبِيعُهَا ؟ فَقَالَ: إِنَّ الَّذِي حَرَّمَ عَلَيْنَا شُرْبَهَا حَرَّمَ عَلَيْنَا بَيْعَهَا، فَقَالَ: أَفَلَا أُكَارِمُ بِهَا الْيَهُودَ، فَذَكَرَ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ: أَنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ عَلَيْهِمْ أَنْ يُكَارِمُوا الْيَهُودَ بِهَا، قَالَ: مَا أَصْنَعُ ؟ قَالَ: صُبَّهَا فِي الْبَطْحَاءِ .
مظاہر امیر خان

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شراب کی ایک مشک پیش کی، جو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بطور تحفہ دیا کرتا تھا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ نے اس کو تمہارے لیے حرام کر دیا ہے۔ اس شخص نے کہا: تو کیا میں اسے بیچ نہیں سکتا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جس نے ہمارے لیے اس کے پینے کو حرام کیا، اس نے ہمارے لیے اس کا بیچنا بھی حرام کر دیا۔ اس نے کہا: کیا میں یہ یہودیوں کو دے کر ان کی عزت افزائی نہ کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اس کو پینا حرام کرتا ہے، اس کے لیے یہودیوں سے اس کی عزت افزائی بھی حرام ہے۔ پھر اس شخص نے کہا: اب میں کیا کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے مکہ کی وادی میں بہا دو۔

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 822
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لإبهام الراوي عن أبي هريرة، وهو صحيح لغيره يشهد له الحديث السابق.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 822، والحميدي فى (مسنده) برقم: 1064، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1806»