سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ * إِنَّمَا يُرِيدُ الشَّيْطَانُ أَنْ يُوقِعَ بَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةَ وَالْبَغْضَاءَ فِي الْخَمْرِ وَالْمَيْسِرِ وَيَصُدَّكُمْ عَنْ ذِكْرِ اللهِ وَعَنِ الصَّلاةِ فَهَلْ أَنْتُمْ مُنْتَهُونَ} إِلَى قَوْلِهِ {وَاللهُ يُحِبُّ الْمُحْسِنِينَ} . باب: اللہ تعالیٰ کے قول «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلامُ رِجْسٌ» کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا فُلَيْحٌ يَعْنِي ابْنَ سُلَيْمَانَ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ وَعْلَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، فَقُلْتُ: إِنَّا بِأَرْضٍ لَنَا فِيهَا كُرُومٌ، وَإِنَّ أَكْثَرَ غَلَّتِهَا الْخَمْرُ ؟ فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: قَدِمَ رَجُلٌ مِنْ دَوْسٍ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِرَاوِيَةِ خَمْرٍ أَهْدَاهَا لَهُ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ اللهَ حَرَّمَهَا بَعْدَكَ، فَأَقْبَلَ الدَّوْسِيُّ عَلَى رَجُلٍ كَانَ مَعَهُ، فَأَمَرَهُ بِبَيْعِهَا، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: هَلْ عَلِمْتَ أَنَّ الَّذِي حَرَّمَ شُرْبَهَا حَرَّمَ بَيْعَهَا، وَأَكْلَ ثَمَنِهَا، فَأَمَرَ بِالْمَزَادَةِ فَأُهْرِيقَتْ حَتَّى لَمْ يَبْقَ فِيهَا قَطْرَةٌ .عبد الرحمن بن وعلہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا کہ ہم ایک ایسی زمین میں رہتے ہیں جہاں ہمارے انگوروں کے باغات ہیں، اور ان کی اکثر پیداوار شراب کی صورت میں نکلتی ہے، تو سیدنا ابن عباس نے فرمایا: ایک شخص قبیلہ دوسر سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شراب سے بھرا مشکیزہ بطور ہدیہ لے کر آیا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: کیا تمہیں علم ہے کہ اللہ نے اسے تمہارے بعد حرام کر دیا ہے؟ تو وہ دوسری شخص اپنے ساتھی کی طرف متوجہ ہوا اور اسے حکم دیا کہ اسے بیچ دے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں علم ہے کہ جس نے اس کا پینا حرام کیا ہے، اس نے اس کی خرید و فروخت اور اس کی قیمت کھانا بھی حرام کیا ہے؟ تو اس نے مشکیزے کو زمین پر انڈیلنے کا حکم دیا یہاں تک کہ اس میں ایک قطرہ بھی باقی نہ رہا۔