سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ} . باب: اللہ تعالیٰ کے قول «فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ» کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ هِلَالِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، أَنَّ رَجُلًا أَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ مِنْ أَهْلِ الْمَغْرِبِ، فَقَالَ: وَاللهِ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَتَحْمِلَنِّي، فَنَظَرَ عُمَرُ إِلَى أَدْنَاهُمْ إِلَيْهِ، فَقَالَ: وَاللهِ إِنْ كَانَ بِكَ مَا إِنْ تُنَبِّئَنِي حَاجَتَكَ دُونَ أَنْ تُقْسِمَ عَلَيَّ، وَأَنَا أَحْلِفُ بِاللهِ لَا أَحْمِلُكَ فَأَظُنُّهُ قَدْ رَدَّدَهَا ثَلَاثِينَ، أَوْ قَرِيبًا مِنْ ثَلَاثِينَ مَرَّةً، فَقَالَ رَجُلٌ يُقَالُ لَهُ عَتِيكُ بْنُ بِلَالٍ الْأَنْصَارِيُّ: أَيُّ شَيْءٍ تُرِيدُ ؟ أَلَا تَرَى أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ قَدْ حَلَفَ أَيْمَانًا لَا أُحْصِيهَا أَنْ لَا يَحْمِلَكَ، وَاللهِ إِنْ تُرِيدُ إِلَّا الشَّرَّ، فَقَالَ الرَّجُلُ: وَاللهِ إِنَّهُ لَمَالُ اللهِ، وَاللهِ إِنِّي لَمِنْ عِيَالِ اللهِ، وَاللهِ إِنَّكَ لَأَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، وَلَقَدْ أَدَّتْ بِي رَاحِلَتِي، وَاللهِ إِنِّي لَابْنُ السَّبِيلِ أُقْطِعَ بِي، وَاللهِ لَتَحْمِلَنِّي، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ: كَيْفَ قُلْتَ ؟ فَأَعَادَهَا عَلَيْهِ، فَقَالَ عُمَرُ: وَاللهِ إِنَّ الْمَالَ لَمَالُ اللهِ، وَإِنَّكَ لَمِنْ عِيَالِ اللهِ، وَإِنِّي لَأَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ، وَإِنْ كَانَتْ رَاحِلَتُكَ أَدَّتْ بِكَ لَا أَتْرُكُكَ لِلتَّهْلُكَةِ، وَاللهِ لَأَحْمِلَنَّكَ، فَأَعَادَهَا حَتَّى حَلَفَ ثَلَاثِينَ يَمِينًا، أَوْ يَمِينَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: لَا أَحْلِفُ عَلَى يَمِينٍ أَبَدًا، فَأَرَى غَيْرَهَا خَيْرًا مِنْهَا إِلَّا اتَّبَعْتُ خَيْرَ الْيَمِينَيْنِ .سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس مغرب کے ایک شخص نے آ کر کہا: اللہ کی قسم اے امیر المؤمنین! آپ مجھے سواری ضرور دیں گے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کی طرف دیکھا اور فرمایا: اللہ کی قسم! اگر تو مجھے قسم دیے بغیر اپنی ضرورت بتا دیتا تو بہتر ہوتا، اور اب میں اللہ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں تجھے سواری نہیں دوں گا۔ راوی کہتا ہے: میں گمان کرتا ہوں کہ آپ نے اسے تیس مرتبہ یا قریباً تیس مرتبہ اس طرح جواب دیا۔
پھر ایک انصاری شخص جس کا نام عتیک بن بلال تھا، اس نے اس سے کہا: تم کیا چاہتے ہو؟ کیا تم نے نہیں دیکھا کہ امیر المؤمنین کتنی قسمیں کھا چکے ہیں کہ تمہیں سواری نہیں دیں گے؟ اللہ کی قسم! تم صرف فساد چاہتے ہو۔
اس شخص نے کہا: اللہ کی قسم! یہ مال اللہ کا ہے، اللہ کی قسم! میں بھی اللہ کے بندوں میں سے ہوں، اللہ کی قسم! آپ امیر المؤمنین ہیں، میری سواری مجھے منزل تک چھوڑ گئی ہے، اللہ کی قسم! میں مسافر ہوں، راستے میں کٹ گیا ہوں، اللہ کی قسم! آپ مجھے سواری ضرور دیں گے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم نے کیا کہا؟ اس نے وہی بات دہرائی، تو آپ نے فرمایا: اللہ کی قسم! یہ مال اللہ ہی کا ہے، اور تم اللہ ہی کے بندے ہو، اور میں امیر المؤمنین ہوں، اور اگر تمہاری سواری تمہیں منزل تک چھوڑ گئی ہے تو میں تمہیں ہلاکت میں نہیں چھوڑ سکتا، اللہ کی قسم! میں تمہیں سواری دوں گا۔
پھر وہ شخص بھی اپنی بات دہراتا رہا یہاں تک کہ عمر رضی اللہ عنہ نے بھی قسم اٹھائی یا دو بار قسم کھائی، پھر فرمایا: آئندہ میں کسی ایسی قسم پر قائم نہیں رہوں گا، جس کے خلاف کوئی بہتر صورت موجود ہو، بلکہ بہتر صورت کو اختیار کروں گا۔