سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ} . باب: اللہ تعالیٰ کے قول «فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ» کا بیان
حدیث نمبر: 792
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ الْكَرِيمِ بْنِ (1)أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: كُلُّ طَعَامٍ فِي الْقُرْآنِ فَهُوَ نِصْفُ صَاعٍ .مظاہر امیر خان
مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: قرآن میں جہاں بھی طَعَام کا ذکر کفارہ کے سیاق میں آیا ہے، اس سے مراد نصف صاع ہے۔
وضاحت:
(1) كذا في طبعة دار الصميعي ولعل: (بن) هذه مقحمة، ينظر مصادر الترجمة، والله أعلم .
(۱) یہ دار الصمیعی کے ایڈیشن میں ایسا ہی ہے، اور شاید: (بن) یہاں زائد ہے، ترجمے کے مآخذ دیکھیں، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔
(۱) یہ دار الصمیعی کے ایڈیشن میں ایسا ہی ہے، اور شاید: (بن) یہاں زائد ہے، ترجمے کے مآخذ دیکھیں، اور اللہ بہتر جانتا ہے۔