سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ مِنْ أَوْسَطِ مَا تُطْعِمُونَ أَهْلِيكُمْ أَوْ كِسْوَتُهُمْ أَوْ تَحْرِيرُ رَقَبَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ ثَلاثَةِ أَيَّامٍ ذَلِكَ كَفَّارَةُ أَيْمَانِكُمْ إِذَا حَلَفْتُمْ وَاحْفَظُوا أَيْمَانَكُمْ} . باب: اللہ تعالیٰ کے قول «فَكَفَّارَتُهُ إِطْعَامُ عَشَرَةِ مَسَاكِينَ» کا بیان
حدیث نمبر: 788
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْيَرْفَا، قَالَ: قَالَ لِي عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: إِنِّي أَنْزَلْتُ نَفْسِي مِنْ مَالِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ بِمَنْزِلَةِ وَلِيِّ الْيَتِيمِ، إِنِ احْتَجْتُ أَخَذْتُ مِنْهُ، فَإِذَا أَيْسَرْتُ رَدَدْتُهُ، وَإِنِ اسْتَغْنَيْتُ اسْتَعْفَفْتُ، وَإِنِّي وُلِّيتُ مِنْ أَمْرِ الْمُسْلِمِينَ أَمْرًا عَظِيمًا، فَإِذَا أَنْتَ سَمِعْتَنِي حَلَفْتُ عَنْ يَمِينٍ فَلَمْ أُمْضِهَا، فَأَطْعِمْ عَنِّي عَشَرَةَ مَسَاكِينَ خَمْسَةَ آصُعٍ بُرٍّ بَيْنَ كُلِّ مِسْكِينَيْنِ صَاعٌ .مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے اپنے آپ کو مالِ اللہ میں یتیم کے ولی کی طرح رکھا ہے، اگر مجھے ضرورت پیش آئے تو لے لیتا ہوں، جب آسانی ہو تو واپس کر دیتا ہوں، اور اگر غنی ہو جاؤں تو بچتا ہوں۔ اور مجھے مسلمانوں کے ایک بڑے معاملے کا والی بنایا گیا ہے، لہٰذا اگر تم مجھے کسی قسم پر سنو اور میں اسے پورا نہ کروں، تو میری طرف سے دس مسکینوں کو پانچ صاع گیہوں کھلا دینا، ہر دو مسکینوں کو ایک صاع۔