حدیث نمبر: 784
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا حُصَيْنٌ، عَنْ أَبِي مَالِكٍ، قَالَ: الْأَيْمَانُ ثَلَاثَةٌ: يَمِينٌ تُكَفَّرُ، وَيَمِينٌ لَا تُكَفَّرُ، وَيَمِينٌ لَا يُؤَاخَذُ بِهَا صَاحِبُهَا، فَأَمَّا الْيَمِينُ الَّتِي تُكَفَّرُ فَرَجُلٌ يُعَاهِدُ أَنْ لَا يَفْعَلَ كَذَا وَكَذَا فَيَفْعَلُهُ، فَعَلَيْهِ الْكَفَّارَةُ، وَأَمَّا الْيَمِينُ الَّتِي لَا تُكَفَّرُ فَالرَّجُلُ يَحْلِفُ عَلَى الْأَمْرِ يَتَعَمَّدُ فِيهِ الْكَذِبَ، فَلَيْسَ فِيهِ كَفَّارَةٌ، وَأَمَّا الْيَمِينُ الَّتِي لَا يُؤَاخَذُ بِهَا صَاحِبُهَا فَرَجُلٌ يَحْلِفُ عَلَى أَمْرٍ يَرَى أَنَّهُ كَمَا حَلَفَ عَلَيْهِ، فَلَا يَكُونُ كَذَلِكَ، فَهَذَا مَا لَا كَفَّارَةَ فِيهِ، وَهُوَ اللَّغْوُ .
مظاہر امیر خان

ابو مالک رحمہ اللہ نے فرمایا: قسمیں تین طرح کی ہوتی ہیں: ایک وہ جس پر کفارہ لازم ہے، دوسری وہ جس پر کفارہ نہیں، اور تیسری وہ جس پر کوئی مؤاخذہ نہیں۔ پہلی یہ کہ آدمی کسی کام کے نہ کرنے کی قسم کھائے اور پھر وہ کر لے تو کفارہ دینا ہوگا، دوسری یہ کہ جان بوجھ کر جھوٹی قسم کھائے، اس پر کوئی کفارہ نہیں بلکہ وہ گناہ کبیرہ ہے، اور تیسری یہ کہ کسی بات پر قسم کھائے اس گمان میں کہ وہ صحیح ہے، لیکن حقیقت میں وہ ویسے نہ ہو، تو ایسی قسم پر نہ مؤاخذہ ہے نہ کفارہ، اور یہی لغو قسم ہے۔

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 784
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح، وتقدم مختصرًا برقم [٧٧٨]، وسنده صحيح أيضًا.
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»