سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ أَكَّالُونَ لِلسُّحْتِ} . باب: اللہ تعالیٰ کے قول «سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ أَكَّالُونَ لِلسُّحْتِ» کا بیان
حدیث نمبر: 741
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ عَنِ السُّحْتِ، أَهُوَ الرِّشْوَةُ فِي الْحُكْمِ، قَالَ: لَا، { وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْـزَلَ اللهُ فَأُولَئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ } وَالظَّالِمُونَ، وَالْفَاسِقُونَ، وَلَكِنَّ السُّحْتَ: أَنْ يَسْتَعِينَكَ رَجُلٌ عَلَى مَظْلَمَةٍ، فَيُهْدِيَ لَكَ، فَتَقْبَلَهُ، فَذَلِكَ السُّحْتُ .مظاہر امیر خان
مسروق رحمہ اللہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سحت یعنی حرام مال کے بارے میں پوچھا کہ کیا یہ حکم میں دی جانے والی رشوت ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: نہیں، ﴿وَمَنْ لَمْ يَحْكُمْ بِمَا أَنْزَلَ اللَّهُ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْكَافِرُونَ﴾، ﴿الظَّالِمُونَ﴾، اور ﴿الْفَاسِقُونَ﴾ یہ الگ آیات ہیں، لیکن سحت یہ ہے کہ کوئی شخص کسی ظلم میں تم سے مدد مانگے، اور تمہیں کچھ ہدیہ دے، اور تم وہ قبول کر لو، پس یہی سحت ہے۔