سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الأَرْضِ فَسَادًا أَنْ يُقَتَّلُوا أَوْ يُصَلَّبُوا أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُمْ مِنْ خِلافٍ أَوْ يُنْفَوْا مِنَ الأَرْضِ} باب: اللہ تعالیٰ کے قول «إِنَّمَا جَزَاءُ الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللهَ وَرَسُولَهُ» کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أُتِيَ عَبْدُ الْحَمِيدِ وَهُوَ أَمِيرٌ عَلَى الْعِرَاقِ بِثَلَاثَةِ نَفَرٍ قَدْ قَطَعُوا الطَّرِيقَ، وَخَذَمُوا بِالسُّيُوفِ، فَأَشَارَ عَلَيْهِ نَاسٌ بِقَتْلِهِمْ، فَاسْتَشَارَنِي، فَقُلْتُ لَهُ: لَا تَفْعَلْ، فَنَهَيْتُهُ أَنْ يَقْتُلَهُمْ لِمَا كُنْتُ أَعْلَمُ مِنْ رَأْيِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ فِي ذَلِكَ، أَنَّهُ لَا يَسْتَحِلُّ قَتْلَ شَيْءٍ كَانَ عَلَى ذَلِكَ الْحَالِ، فَلَمْ يَزَالُوا بِهِ حَتَّى قُتِلَ أَحَدُهُمْ، ثُمَّ أَخَذَ بِقَلْبِهِ بَعْضُ مَا قُلْتُ، فَكَتَبَ بَعْضُهُمْ إِلَى عُمْرَ، فَجَاءَهُ جَوَابُهُ جَوَابًا غَلِيظًا، يُقَبِّحُ لَهُ مَا صَنَعَ، وَفِي الْكِتَابِ: فَهَلَّا إِذْ تَأَوَّلْتَ هَذِهِ الْآيَةَ وَرَأَيْتَ أَنَّهُمْ أَهْلَهَا أَخَذْتَ بِأَيْسَرِ ذَلِكَ، قَالَ أَبُو الزِّنَادِ: فَإِنْ رَأَى الَّذِي يَنْتَهِي إِلَى رَأْيِهِمْ بِالْمَدِينَةِ، مُدَّعِيًا أَنَّهُ لَيْسَ بِالْمُحَارِبِ الَّذِي يَتَلَصَّصُ وَيَسْتَخْفِي مِنَ السُّلْطَانِ وَيَغْزُو، لَكِنَّهُمْ قَالُوا: إِنَّ الْمُحَارِبَ الَّذِي يُفْسِدُ نَسْلَ الْمُؤْمِنِينَ، وَلَا يُجِيبُ دَعْوَةَ السُّلْطَانِ .ابو الزناد رحمہ اللہ کہتے ہیں: عبد الحمید جو عراق کا گورنر تھا، اس کے پاس تین آدمی لائے گئے جنہوں نے راستہ کاٹا اور تلواروں سے حملہ کیا، کچھ لوگوں نے ان کے قتل کا مشورہ دیا، اس نے مجھ سے رائے لی تو میں نے منع کیا کیونکہ مجھے سیدنا عمر بن عبدالعزیز رحمہ اللہ کی رائے معلوم تھی کہ وہ اس حال میں قتل کو جائز نہیں سمجھتے، لیکن لوگوں کے اصرار پر ان میں سے ایک کو قتل کر دیا گیا، پھر گورنر کو میری بات کا کچھ احساس ہوا تو عمر بن عبدالعزیز کو خط لکھا، ان کا سخت جواب آیا جس میں اس کے فعل کو برا کہا، اور لکھا: اگر تم نے اس آیت پر غور کیا ہوتا اور دیکھا ہوتا کہ وہ اس کے مصداق ہیں تو تم ان پر سب سے ہلکی سزا جاری کرتے، ابو الزناد کہتے ہیں: مدینہ میں جو اس مسئلہ میں صاحب رائے تھے وہ کہتے تھے کہ محارب وہ ہے جو مسلمانوں کی نسل بگاڑتا ہے، سلطان کی دعوت کو قبول نہیں کرتا، چوری چھپے نہیں بلکہ اعلانیہ فساد کرتا ہے۔