سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا وَالصُّلْحُ خَيْرٌ} . باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا» کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، أَنَّ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ تَزَوَّجَ ابْنَةَ مُحَمَّدِ بْنِ مَسْلَمَةَ فَأَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَهَا، فَقَالَتْ: لَا تُطَلِّقْنِي، وَأَمْسِكْنِي، وَاقْسِمْ لِي مَا بَدَا لَكَ أَنْ تَقْسِمَ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: { وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا }، فَجَرَتِ السُّنَّةُ بِأَنَّ الرَّجُلَ إِذَا كَانَتْ عِنْدَهُ امْرَأَةٌ فَكَبُرَتْ وَكَرِهَهَا، فَأَرَادَ أَنْ يُطَلِّقَهَا، فَصَالَحَتْهُ عَلَى صُلْحٍ، فَلَهُ أَنْ يُمْسِكَهَا، وَيَقْسِمَ لَهَا مَا شَاءَ .سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے محمد بن مسلمہ کی بیٹی سے نکاح کیا، پھر اسے طلاق دینا چاہی، تو عورت نے کہا: مجھے طلاق نہ دو، مجھے اپنے نکاح میں رکھو اور میرے لیے جتنا چاہو نفقہ مقرر کر دو، تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَإِنِ امْرَأَةٌ خَافَتْ مِنْ بَعْلِهَا نُشُوزًا أَوْ إِعْرَاضًا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَنْ يُصْلِحَا بَيْنَهُمَا صُلْحًا﴾، تو سنت جاری ہوگئی کہ اگر کسی شخص کے نکاح میں عورت ہو اور وہ بوڑھی ہو جائے اور شوہر اسے ناپسند کرے اور طلاق دینا چاہے، تو اگر عورت صلح کر لے تو مرد اس کو رکھ سکتا ہے اور جو چاہے اس کے لیے مقرر کرے۔