حدیث نمبر: 7
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو شِهَابٍ عَنْ إِبْرَاهِيمَ الْهَجَرِيِّ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ قَالَ: إِنَّ هَذَا الْقُرْآنَ مَأْدُبَةُ اللهِ، فَمَنِ اسْتَطَاعَ مِنْكُمْ أَنْ يَتَعَلَّمَ مِنْهُ شَيْئًا فَلْيَفْعَلْ ; فَإِنَّهُ حَبْلُ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَالنُّورُ الْمُبِينُ، وَالشِّفَاءُ النَّافِعُ . عِصْمَةٌ لِمَنْ تَمَسَّكَ بِهِ، وَنَجَاةٌ لِمَنِ اتَّبَعَهُ . وَلَا يَعْوَجُّ فَيُقَوَّمُ، وَلَا يَزِيغُ فَيُسْتَعْتَبُ . وَلَا تَنْقَضِي عَجَائِبُهُ، وَلَا يَخْلَقُ عَنْ كَثْرَةِ الرَّدِّ . فَإِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يَأْجُرُكُمْ عَلَى تِلَاوَتِهِ بِكُلِّ حَرْفٍ عَشْرَ حَسَنَاتٍ، أَمَا إِنِّي لَا أَقُولُ: الم " .
مظاہر امیر خان

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”بے شک یہ قرآن اللہ کی دعوت ہے، پس تم میں سے جو بھی اس میں سے کچھ سیکھنے کی استطاعت رکھتا ہو، وہ ضرور سیکھے؛ کیونکہ یہ اللہ عزوجل کی رسی ہے، واضح نور ہے، نفع دینے والا شفا ہے، جو اس سے وابستہ رہے وہ محفوظ رہے گا، اور جو اس کی پیروی کرے وہ نجات پائے گا۔ یہ نہ ٹیڑھا ہوتا ہے کہ اسے سیدھا کیا جائے، نہ بھٹکتا ہے کہ اسے متنبہ کیا جائے۔ اس کے عجائب کبھی ختم نہیں ہوتے، اور بار بار پڑھنے سے پرانا نہیں ہوتا۔ بے شک اللہ عزوجل تمہیں اس کی تلاوت پر ہر حرف کے بدلے دس نیکیاں عطا فرماتا ہے۔ دیکھو! میں یہ نہیں کہتا کہ ﴿الم﴾ (ایک حرف ہے)۔“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 7
درجۂ حدیث محدثین: الحديث سنده ضعيف لأجل إبراهيم الهجري
تخریج حدیث «أخرجه الحاكم فى (مستدركه) برقم: 2047، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2910، والدارمي فى (مسنده) برقم: 3351، 3358، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 4، 6، 7، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 5993، 6017، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 30552، 30554، 30630، والطبراني فى(الكبير) برقم: 8646، 8647، 8648، 8649»