سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {لَيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ وَلا يَجِدْ لَهُ مِنْ دُونِ اللهِ وَلِيًّا وَلا نَصِيرًا * وَمَنْ يَعْمَلْ مِنَ الصَّالِحَاتِ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَأُولَئِكَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ وَلا يُظْلَمُونَ نَقِيرًا} . باب: اللہ تعالیٰ کے قول «لَيْسَ بِأَمَانِيِّكُمْ وَلا أَمَانِيِّ أَهْلِ الْكِتَابِ» کا بیان
حدیث نمبر: 697
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، قَالَ: نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ الضَّرِيرُ، قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي زُهَيْرٍ، قَالَ: قَالَ أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ: كَيْفَ الصَّلَاحُ بَعْدَ هَذِهِ الْآيَةِ: { مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ } ؟ قَالَ: يَا أَبَا بَكْرٍ أَلَسْتَ تَمْرَضُ ؟ أَلَسْتَ تُصِيبُكَ اللَّأْوَاءُ ؟ قَالَ: بَلَى، قَالَ: فَإِنَّ ذَلِكَ مِمَّا تُجْزَوْنَ بِهِ .مظاہر امیر خان
سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اس آیت ﴿مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ﴾ کے بعد بھلا اصلاح کیسے ممکن ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے ابو بکر! کیا تم بیمار نہیں ہوتے؟ کیا تمہیں مشقت نہیں پہنچتی؟ فرمایا: کیوں نہیں، تو فرمایا: یہ بھی انہی چیزوں میں سے ہے جن کا بدلہ تمہیں دیا جاتا ہے۔