سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا} . باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا» کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ كُرْدُمٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: أَتَاهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: مَلَأْتُ حَوْضِي أَنْتَظِرُ ظَمِيَّتِي تَرِدُ عَلَيَّ، فَلَمْ أَسْتَيْقِظْ إِلَّا بِرَجُلٍ قَدْ أَشْرَعَ نَاقَتَهُ، وَثَلَمَ الْحَوْضَ، وَسَالَ الْمَاءُ، فَقُمْتُ فَزِعًا، فَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ، فَقَتَلْتُهُ ؟ فَقَالَ: لَيْسَ هَذَا مِثْلَ الَّذِي قَالَ، فَأَمَرَهُ بِالتَّوْبَةِ، قَالَ سُفْيَانُ: كَانَ أَهْلُ الْعِلْمِ إِذَا سُئِلُوا قَالُوا: لَا تَوْبَةَ لَهُ، فَإِذَا ابْتُلِيَ رَجُلٌ، قَالُوا لَهُ: تُبْ .سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس ایک شخص آیا اور کہا: میں نے اپنا حوض پانی سے بھر کر اپنی اونٹنی کے پیاسے ہونے کا انتظار کیا، مگر اچانک ایک شخص اونٹنی سمیت آیا، حوض میں داخل ہو گیا، پانی بہہ گیا، میں گھبرا کر اٹھا اور تلوار سے وار کر کے اسے قتل کر دیا، تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: یہ اس قاتل عمد کے مانند نہیں جس کا ذکر شدید وعید والی آیت میں آیا ہے، پھر اس شخص کو توبہ کا حکم دیا۔ سفیان رحمہ اللہ کہتے ہیں: اہل علم جب فتویٰ دیتے تو کہتے: اس کے لیے توبہ نہیں، لیکن جب کسی پر واقعہ پیش آتا تو اس سے کہتے: توبہ کر۔