حدیث نمبر: 670
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى الْأَبَحُّ، قَالَ: نَا سَعِيدُ بْنُ مِينَا، قَالَ: كَانَ بَيْنَ صَاحِبٍ لِي وَرَجُلٍ مِنْ أَهْلِ السُّوقِ بِمَكَّةَ لِحَاءٌ، فَأَخَذَ صَاحِبِي كُرْسِيًّا، فَضَرَبَ بِهِ رَأْسَ الرَّجُلِ، فَقَتَلَهُ، وَنَدِمَ، وَقَالَ: إِنِّي سَأُخْرِجُ مِنْ مَالِي، ثُمَّ أَنْطَلِقُ فَأَجْعَلُ نَفْسِي حَبِيسًا فِي سَبِيلِ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ، قَالَ: قُلْتُ: انْطَلِقْ بِنَا إِلَى ابْنِ عُمَرَ نَسْأَلُهُ هَلْ لَكَ مِنْ تَوْبَةٍ ؟ فَانْطَلَقْنَا حَتَّى دَخَلْنَا عَلَيْهِ وَهُوَ يَوْمَئِذٍ بِمَكَّةَ، قَالَ: قُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ ... فَاقْتَصَصْتُ عَلَيْهِ الْقِصَّةَ عَلَى مَا كَانَتْ، قَالَ: قُلْتُ: هَلْ تَرَى لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ ؟ قَالَ: كُلْ وَاشْرَبْ، أُفٍّ، قُمْ عَنِّي، إِنَّهُ يَزْعُمُ أَنَّهُ لَمْ يُرِدْ قَتْلَهُ، قَالَ: كَذَبَ، يَعْمِدُ أَحَدُكُمْ إِلَى الْخَشَبَةِ، فَيَضْرِبُ بِهَا رَأْسَ الرَّجُلِ الْمُسْلِمِ، ثُمَّ يَقُولُ: إِنِّي لَمْ أُرِدْ قَتْلَهُ، كَذَبَ، كُلْ وَاشْرَبْ مَا اسْتَطَعْتَ، أُفٍّ، قُمْ عَنِّي، فَلَمْ يَزِدْنَا عَلَى ذَلِكَ حَتَّى قُمْنَا .
مظاہر امیر خان

سعید بن مینا رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میرے ایک ساتھی اور مکہ کے بازار کے ایک شخص کے درمیان جھگڑا ہوا، تو میرے ساتھی نے ایک کرسی اٹھا کر اس شخص کے سر پر ماری، جس سے وہ مر گیا، پھر وہ نادم ہوا اور کہنے لگا: میں اپنا سارا مال صدقہ کر دوں گا اور اللہ کے راستے میں خود کو قید کر دوں گا، میں نے کہا: آؤ ہم سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس چلتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ کیا تمہارے لیے توبہ ہے؟ چنانچہ ہم مکہ میں ان کے پاس پہنچے، میں نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! اور پھر پوری تفصیل بیان کی، اور پوچھا: کیا آپ اس کے لیے توبہ کی کوئی صورت دیکھتے ہیں؟ تو انہوں نے کہا: کھاؤ پیو، اُف، میرے سامنے سے اٹھ جاؤ! وہ کہتا ہے کہ اس نے قتل کا ارادہ نہیں کیا؟ جھوٹ بولتا ہے! تم میں سے کوئی لکڑی سے کسی مسلمان کے سر پر مارتا ہے، پھر کہتا ہے: میرا قتل کا ارادہ نہیں تھا؟ جھوٹ بولتا ہے! کھاؤ پیو جتنا کھا سکتے ہو، اُف، میرے سامنے سے اٹھ جاؤ! اس کے بعد انہوں نے ہمیں کچھ نہ کہا، حتیٰ کہ ہم وہاں سے اٹھ گئے۔

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 670
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف كسابقه.
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»