سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا} . باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا» کا بیان
حدیث نمبر: 669
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا حَمَّادُ بْنُ يَحْيَى الْأَبَحُّ، قَالَ: نَا سَعِيدُ بْنُ مِينَا، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: كُنْتُ جَالِسًا بِجَنْبِهِ إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ فَقَالَ: يَا أَبَا هُرَيْرَةَ، مَا تَقُولُ فِي قَاتِلِ الْمُؤْمِنِ، هَلْ لَهُ مِنْ تَوْبَةٍ ؟ فَقَالَ: لَا، وَالَّذِي لَا إِلَهَ إِلَّا هُوَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ حَتَّى يَلِجَ الْجَمَلُ فِي سَمِّ الْخِيَاطِ .مظاہر امیر خان
سعید بن مینا رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کے پاس میں بیٹھا ہوا تھا، اتنے میں ایک شخص آیا اور کہا: اے ابو ہریرہ! آپ مومن کے قاتل کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟ کیا اس کے لیے توبہ ہے؟ تو سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: نہیں! قسم ہے اس ذات کی جس کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا جب تک اونٹ سوئی کے ناکے سے نہ گزر جائے۔