سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا} . باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا» کا بیان
حدیث نمبر: 668
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ، عَنْ كُرْدُمٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ، وَابْنَ عَبَّاسٍ، وَابْنَ عُمَرَ سُئِلُوا عَنِ الرَّجُلِ يَقْتُلُ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا، فَقَالُوا: هَلْ يَسْتَطِيعُ أَنْ لَا يَمُوتَ ؟ هَلْ يَسْتَطِيعُ أَنْ يَبْتَغِيَ نَفَقًا فِي الْأَرْضِ أَوْ سُلَّمًا فِي السَّمَاءِ أَوْ يُحْيِيَهُ . ؟مظاہر امیر خان
کردم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا ابو ہریرہ، ابن عباس رضی اللہ عنہما اور ابن عمر رضی اللہ عنہما سے اس شخص کے بارے میں پوچھا گیا جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا، تو انہوں نے جواب دیا: کیا وہ مرنے سے بچ سکتا ہے؟ کیا وہ زمین میں کوئی سرنگ نکال سکتا ہے یا آسمان کی طرف کوئی سیڑھی بنا سکتا ہے یا مقتول کو زندہ کر سکتا ہے؟