سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا} . باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا» کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ، وَيَحْيَى الْجَابِرِ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عَبَّاسٍ: مَا تَقُولُ فِي رَجُلٍ قَتَلَ رَجُلًا مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا، ثُمَّ تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا، ثُمَّ اهْتَدَى ؟ قَالَ: وَأَنَّى لَهُ الْهُدَى ثَكِلَتْهُ أُمُّهُ، سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: يَجِيءُ الْمَقْتُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مُعَلَّقًا رَأْسُهُ، وَأَوْدَاجُهُ تَشْخَبُ دَمًا، فَيَقُولُ: يَا رَبِّ سَلْ هَذَا: لِمَ قَتَلَنِي ؟ فَوَاللهِ مَا نَسَخَهَا شَيْءٌ مِنْ بَعْدِ مَا أُنْزِلَتْ: { وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا } .سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے ایک شخص نے پوچھا: اس شخص کے بارے میں آپ کیا فرماتے ہیں جس نے کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کیا، پھر توبہ کی، ایمان لایا، نیک عمل کیے اور ہدایت پا گیا؟ تو انہوں نے جواب دیا: اسے ہدایت کہاں سے ملے گی؟ اس کی ماں اسے روئے، میں نے تمہارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: قیامت کے دن مقتول اس حال میں آئے گا کہ اس کا سر معلق ہوگا اور رگیں خون ٹپکا رہی ہوں گی، اور وہ کہے گا: اے میرے رب! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کیوں قتل کیا؟ اللہ کی قسم! اس آیت کو منسوخ کرنے والی کوئی چیز نازل نہیں ہوئی: ﴿وَمَنْ يَقْتُلْ مُؤْمِنًا مُتَعَمِّدًا فَجَزَاؤُهُ جَهَنَّمُ خَالِدًا فِيهَا وَغَضِبَ اللَّهُ عَلَيْهِ وَلَعَنَهُ وَأَعَدَّ لَهُ عَذَابًا عَظِيمًا﴾۔