سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلا خَطَأً وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ إِلا أَنْ يَصَّدَّقُوا فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ فَمَنْ لَمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةً مِنَ اللهِ وَكَانَ اللهُ عَلِيمًا حَكِيمًا} . باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلا خَطَأً» کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، نَا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلا خَطَأً وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ إِلا أَنْ يَصَّدَّقُوا } قَالَ: هَذَا الْمُسْلِمُ الَّذِي وَرِثَتْهُ الْمُسْلِمُونَ، { فَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ } قَالَ: هَذَا الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ وَقَوْمُهُ مُشْرِكُونَ، وَلَيْسَ بَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقْدٌ، { وَإِنْ كَانَ مِنْ قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ مِيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ } قَالَ: هَذَا الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ وَقَوْمُهُ مُشْرِكُونَ، وَبَيْنَهُمْ وَبَيْنَ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَقْدٌ فَيُقْتَلُ، فَيَكُونُ مِيرَاثُهُ لِلْمُسْلِمِينَ، وَتَكُونُ دِيَتُهُ لِقَوْمِهِ ; لِأَنَّهُمْ يَعْقِلُونَ عَنْهُ .ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے آیت ﴿وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَنْ يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَأً﴾ کی تفسیر میں فرمایا: جب مسلمان غلطی سے کسی ایسے مسلمان کو قتل کرے جس کے ورثاء مسلمان ہوں، تو دیہ انہیں دی جاتی ہے؛ اور اگر وہ مسلمان کسی ایسی قوم سے ہو جو تمہاری دشمن ہو، تو اس کی صرف گردن آزاد کی جائے گی، کیونکہ اس کے ورثاء مشرک ہیں اور ان کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی معاہدہ نہیں؛ اور اگر وہ مسلمان ایسی مشرک قوم سے تعلق رکھتا ہو جس سے مسلمانوں کا معاہدہ ہو، تو پھر دیہ اس کے مشرک ورثاء کو دی جائے گی کیونکہ وہی اس کی دیت کے ذمہ دار ہیں، اور اس کا ترکہ مسلمانوں کو ملے گا۔