سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقْرَبُوا الصَّلاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى حَتَّى تَعْلَمُوا مَا تَقُولُونَ وَلا جُنُبًا إِلا عَابِرِي سَبِيلٍ حَتَّى تَغْتَسِلُوا وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ أَوْ لامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ إِنَّ اللهَ كَانَ عَفُوًّا غَفُورًا} . باب: اللہ تعالیٰ کے قول «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَقْرَبُوا الصَّلاةَ وَأَنْتُمْ سُكَارَى» کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: كُنَّا فِي حُجْرَةِ ابْنِ عَبَّاسٍ، وَمَعَنَا عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ وَنَفَرٌ مِنَ الْمَوَالِي، وَعُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ، وَنَفَرٌ مِنَ الْعَرَبِ فَتَذَاكَرْنَا اللِّمَاسَ، فَقُلْتُ أَنَا وَعَطَاءٌ: اللَّمْسُ بِالْيَدِ، وَقَالَ عُبَيْدُ بْنُ عُمَيْرٍ وَالْعَرَبُ: هُوَ الْجِمَاعُ، فَقُلْتُ: إِنَّ عِنْدَكُمْ مِنْ هَذَا الْفَضْلِ قَرِيبٌ، فَدَخَلْتُ عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ وَهُوَ قَاعِدٌ عَلَى سَرِيرٍ، فَقَالَ لِي مَهْيَمْ ؟ فَقُلْتُ: تَذَاكَرْنَا اللَّمْسَ، فَقَالَ بَعْضُنَا: هُوَ اللَّمْسُ بِالْيَدِ، وَقَالَ بَعْضُنَا: هُوَ الْجِمَاعُ، قَالَ: مَنْ قَالَ هُوَ الْجِمَاعُ ؟ قُلْتُ: الْعَرَبُ، قَالَ: فَمَنْ قَالَ هُوَ اللَّمْسُ بِالْيَدِ ؟ قُلْتُ: الْمَوَالِي، قَالَ: فَمِنْ أَيِّ الْفَرِيقَيْنِ كُنْتَ ؟ قُلْتُ: مَعَ الْمَوَالِي، فَضَحِكَ وَقَالَ: غَلَبَتِ الْمَوَالِي، غَلَبَتِ الْمَوَالِي - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - ثُمَّ قَالَ: إِنَّ اللَّمْسَ وَالْمَسَّ وَالْمُبَاشَرَةَ إِلَى الْجِمَاعِ إِلَى الْجِمَاعِ مَا هُوَ، وَلَكِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ يُكَنِّي مَا شَاءَ بِمَا شَاءَ .سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ہم ابن عباس رضی اللہ عنہما کے حجرے میں تھے، ہمارے ساتھ عطاء بن ابی رباح، کچھ موالی، عبید بن عمیر اور چند عرب موجود تھے، تو ہم نے ”لمس“ کے معنی پر گفتگو کی، میں اور عطاء کہنے لگے کہ لمس کا مطلب ہاتھ سے چھونا ہے، جبکہ عبید بن عمیر اور عرب کہنے لگے کہ اس سے مراد جماع ہے، میں نے کہا: آپ کے پاس اس مسئلے میں فضیلت کی بات قریب ہی ہے، پھر میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گیا، وہ تخت پر بیٹھے تھے، انہوں نے پوچھا: ”کیا ہوا؟“ میں نے کہا: ہم لمس کے بارے میں گفتگو کر رہے تھے، کچھ نے کہا کہ یہ ہاتھ سے چھونا ہے، اور کچھ نے کہا کہ یہ جماع ہے، انہوں نے پوچھا: ”جماع کا قول کس نے کیا؟“ میں نے کہا: عربوں نے، پھر پوچھا: ”اور ہاتھ سے چھونے کا قول کس نے کیا؟“ میں نے کہا: موالی نے، تو پوچھا: ”تم کس گروہ کے ساتھ تھے؟“ میں نے کہا: موالی کے ساتھ، تو وہ ہنس پڑے اور تین بار فرمایا: ”موالی غالب آ گئے، موالی غالب آ گئے“، پھر فرمایا: لمس، مس اور مباشرت، ان سب کی انتہا جماع ہے، لیکن اللہ عزوجل جس بات کو چاہے، جس لفظ سے چاہے کنایہ دیتا ہے۔