حدیث نمبر: 64
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطِيَّةَ بْنَ قَيْسٍ وَأَشْيَاخَنَا يَقُولُونَ: إِذَا اخْتَلَفْتُمْ فِي قِرَاءَةِ يَاءٍ وَتَاءٍ فَاقْرَؤُوا عَلَى يَاءٍ، وَذَكِّرُوا الْقُرْآنَ فَإِنَّهُ مُذَكَّرٌ . ¤ قَالَ أَبُو بَكْرٍ: وَسَمِعْتُ أَشْيَاخَنَا يَقُولُونَ: الْيَاءُ عَامَّةٌ، وَالتَّاءُ خَاصَّةٌ .مظاہر امیر خان
عطیہ بن قیس رحمہ اللہ اور ہمارے شیوخ فرماتے تھے: جب یاء اور تاء کی قراءت میں اختلاف ہو تو یاء کے ساتھ پڑھو، کیونکہ قرآن مذکر ہے پس تم اس کو مذکر پڑھو۔ ابو بکر رحمہ اللہ نے کہا: میں نے اپنے شیوخ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ یاء عام ہوتی ہے اور تاء خاص۔