حدیث نمبر: 633
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، قَالَ: سَأَلْتُ سَعِيدَ بْنَ جُبَيْرٍ عَنِ الْحَكَمَيْنِ فَغَضِبَ، وَقَالَ: مَا وُلِدْتُ إِذْ ذَاكَ، فَقُلْتُ: إِنَّمَا أَعْنِي حُكْمَ شِقَاقٍ، فَقَالَ: إِذَا كَانَ بَيْنَ الرَّجُلِ وَالْمَرْأَةِ دَرْءٌ أَوْ تَدَارِي، بَعَثُوا حَكَمَيْنِ، فَأَقْبَلَا عَلَى الَّذِي التَّدَارِي مِنْ قِبَلِهِ، فَوَعَظَاهُ وَأَمَرَاهُ، فَإِنْ أَطَاعَهُمَا، وَإِلَّا أَقْبَلَا عَلَى الْآخَرِ، فَإِنْ سَمِعَ مِنْهُمَا وَأَقْبَلَ إِلَى الَّذِي يُرِيدَانِ وَإِلَّا حَكَمَا بَيْنَهُمَا، فَمَا حَكَمَا مِنْ شَيْءٍ فَهُوَ جَائِزٌ، قَالَ شُعْبَةُ: وَأَكْثَرُ عِلْمِي قَالَ لِي رَجُلٌ إِلَى جَنْبِي: فَهُوَ جَائِزٌ .
مظاہر امیر خان

عمرو بن مرہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے حکمین کے بارے میں پوچھا تو وہ غصے میں آ گئے اور فرمایا: ”میں اس وقت پیدا ہی نہیں ہوا تھا۔“ میں نے کہا: ”میرا مطلب شقاق کے حکم سے ہے۔“ تو انہوں نے فرمایا: ”جب مرد اور عورت کے درمیان اختلاف یا ناراضگی ہو تو وہ دو حکم بھیجتے ہیں۔ یہ دونوں پہلے اس کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جس کی طرف سے ناراضگی ہو رہی ہو، پس اسے نصیحت کرتے ہیں اور اسے حکم دیتے ہیں۔ اگر وہ ان کی بات مان لے تو بہتر، ورنہ وہ دوسرے فریق کی طرف متوجہ ہوتے ہیں۔ اگر وہ ان کی بات سنتا ہے اور اس بات پر آمادہ ہو جاتا ہے جس کی وہ خواہش رکھتے ہیں، تو ٹھیک ہے، ورنہ وہ دونوں ان کے درمیان فیصلہ کر دیتے ہیں۔ اور جو بھی فیصلہ وہ کریں، وہ جائز ہوتا ہے۔“ شُعبہ رحمہ اللہ کہتے ہیں: میرے علم کے مطابق میرے قریب بیٹھے ایک شخص نے کہا: ”پس وہ فیصلہ جائز ہوتا ہے۔“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 633
درجۂ حدیث محدثین: سنده حسن لذاته، وهو صحيح لغيره؛ فإن عبد الرحمن بن زياد قد توبع.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 633، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14910، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 11888»