حدیث نمبر: 630
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا حُصَيْنٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ امْرَأَةً نَشَزَتْ عَلَى زَوْجِهَا فَاخْتَصَمُوا إِلَى شُرَيْحٍ، فَقَالَ شُرَيْحٌ: ابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا، فَفَعَلُوا، فَنَظَرَ الْحَكَمَانِ فِي أَمْرِهِمَا، فَرَأَيَا أَنْ يُفَرِّقَا بَيْنَهُمَا، فَكَرِهَ ذَلِكَ الرَّجُلُ، فَقَالَ شُرَيْحٌ: فَفِيمَ كُنَّا فِيهِ الْيَوْمَ ؟ وَأَجَازَ أَمْرَهُمَا .
مظاہر امیر خان

ایک عورت نے اپنے شوہر کے خلاف نافرمانی کی، تو وہ قاضی شریح رحمہ اللہ کے پاس مقدمہ لے کر گئے۔ قاضی شریح نے فرمایا: ”ایک ثالث اس کے خاندان سے اور ایک ثالث شوہر کے خاندان سے مقرر کرو۔“ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا۔ دونوں ثالثوں نے ان کے معاملے پر غور کیا اور فیصلہ کیا کہ ان کے درمیان جدائی ہونی چاہیے۔ اس پر مرد نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا، تو قاضی شریح نے فرمایا: ”پھر ہم آج کس معاملے میں تھے؟“ اور دونوں ثالثوں کے فیصلے کو جائز قرار دیا۔

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 630
درجۂ حدیث محدثین: سنده صحيح.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 630، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 14908»