سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالاتُكُمْ وَبَنَاتُ الأَخِ وَبَنَاتُ الأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلابِكُمْ وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الأُخْتَيْنِ إِلا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا} باب: اللہ تعالیٰ کے قول «حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ» کا بیان
حدیث نمبر: 604
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ { وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ } قَالَ: هِيَ مُبْهَمَةٌ، فَأَرْسِلُوا مَا أَرْسَلَ اللهُ، وَاتَّبِعُوا مَا بَيَّنَ اللهُ، وَرَخَّصَ فِي الرَّبِيبَةِ إِذَا لَمْ يَكُنْ دَخَلَ بِأُمِّهَا، وَكَرِهَ الْأُمَّ عَلَى كُلِّ حَالٍ .مظاہر امیر خان
مسروق رحمہ اللہ سے ﴿وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ﴾ کے بارے میں سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا: ”یہ حرمت قطعی ہے، پس جسے اللہ نے مبہم رکھا، اسے مبہم ہی چھوڑو اور جسے واضح کیا، اس کی پیروی کرو۔ اللہ نے سوتیلی بیٹی کے معاملے میں اس وقت نرمی رکھی جب اس کی ماں سے دخول نہ ہوا ہو، لیکن سوتیلی ماں کو ہر حال میں حرام قرار دیا۔“