سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ وَعَمَّاتُكُمْ وَخَالاتُكُمْ وَبَنَاتُ الأَخِ وَبَنَاتُ الأُخْتِ وَأُمَّهَاتُكُمُ اللاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَوَاتُكُمْ مِنَ الرَّضَاعَةِ وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ وَرَبَائِبُكُمُ اللاتِي فِي حُجُورِكُمْ مِنْ نِسَائِكُمُ اللاتِي دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَإِنْ لَمْ تَكُونُوا دَخَلْتُمْ بِهِنَّ فَلا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ وَحَلائِلُ أَبْنَائِكُمُ الَّذِينَ مِنْ أَصْلابِكُمْ وَأَنْ تَجْمَعُوا بَيْنَ الأُخْتَيْنِ إِلا مَا قَدْ سَلَفَ إِنَّ اللهَ كَانَ غَفُورًا رَحِيمًا} باب: اللہ تعالیٰ کے قول «حُرِّمَتْ عَلَيْكُمْ أُمَّهَاتُكُمْ وَبَنَاتُكُمْ» کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا حُدَيْجُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِيَاسٍ، عَنْ رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي شَمْخٍ، فَرَأَى بَعْدُ أُمَّهَا، فَأَعْجَبَتْهُ، فَذَهَبَ إِلَى ابْنِ مَسْعُودٍ، فَقَالَ: إِنِّي تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً، وَلَمْ أَدْخُلْ بِهَا، ثُمَّ أَعْجَبَتْنِي أُمُّهَا، فَأُطَلِّقُ الْمَرْأَةَ وَأَتَزَوَّجُ أُمَّهَا ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَطَلَّقَهَا، وَتَزَوَّجَ أُمَّهَا، فَأَتَى عَبْدُ اللهِ الْمَدِينَةَ، فَسَأَلَ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: لَا يَصْلُحُ، ثُمَّ قَدِمَ، فَأَتَى بَنِي شَمْخٍ، فَقَالَ: أَيْنَ الرَّجُلُ الَّذِي تَزَوَّجَ أُمَّ الْمَرْأَةِ الَّتِي كَانَتْ تَحْتَهُ ؟ قَالُوا: هَاهُنَا، قَالَ: فَلْيُفَارِقْهَا، قَالُوا: وَقَدْ نَثَرَتْ لَهُ بَطْنَهَا ؟ ! قَالَ: فَلْيُفَارِقْهَا فَإِنَّهَا حَرَامٌ مِنَ اللهِ عَزَّ وَجَلَّ .ایک شخص نے بنی شمخ کی ایک عورت سے نکاح کیا، پھر اس کی ماں کو دیکھا اور وہ اسے پسند آ گئی۔ اس نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے پوچھا: ”میں نے ایک عورت سے نکاح کیا لیکن ابھی اس سے تعلق قائم نہیں کیا، پھر مجھے اس کی ماں پسند آ گئی، تو کیا میں اسے طلاق دے کر اس کی ماں سے نکاح کر سکتا ہوں؟“ انہوں نے فرمایا: ”ہاں۔“ چنانچہ اس نے اسے طلاق دے کر اس کی ماں سے نکاح کر لیا۔ بعد میں سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ مدینہ گئے اور صحابہ سے دریافت کیا، تو انہوں نے کہا: ”یہ نکاح جائز نہیں۔“ پھر وہ واپس آئے اور بنی شمخ کے پاس گئے اور پوچھا: ”وہ شخص کہاں ہے جس نے اس عورت کی ماں سے نکاح کیا جو پہلے اس کے نکاح میں تھی؟“ انہوں نے بتایا کہ وہ یہاں ہے۔ تو انہوں نے فرمایا: ”اسے فوراً علیحدہ ہو جانا چاہیے۔“ لوگوں نے کہا: ”وہ تو حاملہ ہو چکی ہے!“ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”پھر بھی، اسے فوراً علیحدہ ہو جانا چاہیے، کیونکہ وہ اس پر اللہ عزوجل کی طرف سے حرام ہے۔“