سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلالَةً أَوِ امْرَأَةٌ وَلَهُ أَخٌ أَوْ أُخْتٌ فَلِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا السُّدُسُ فَإِنْ كَانُوا أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَهُمْ شُرَكَاءُ فِي الثُّلُثِ} باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلالَةً أَوِ امْرَأَةٌ» کا بیان
حدیث نمبر: 588
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُحَمَّدٍ قَالَ: سَأَلْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ، عَنِ الْكَلَالَةِ، قَالَ: هُوَ مَا عَدَا الْوَلَدَ، وَالْوَالِدَ . فَقُلْتُ لَهُ: { إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ } ؟ فَغَضِبَ وَانْتَهَرَنِي .مظاہر امیر خان
حسن بن محمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے کلالہ کے بارے میں پوچھا، تو انہوں نے فرمایا: وہ وارث جو اولاد اور والد کے علاوہ ہو۔ میں نے ان سے مزید وضاحت کے لیے کہا: ﴿إِنِ امْرُؤٌ هَلَكَ لَيْسَ لَهُ وَلَدٌ﴾؟ تو وہ ناراض ہوئے اور مجھے جھڑک دیا۔