حدیث نمبر: 587
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ طَاوُسٍ، قَالَ: أَمَرَ عُمَرُ حَفْصَةَ أَنْ تَسْأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الْكَلَالَةِ، فَأَمْهَلَتْهُ، حَتَّى إِذَا لَبِسَ ثِيَابَهُ، سَأَلَتْهُ عَنْهَا، فَأَمْلَاهَا عَلَيْهَا، وَقَالَ: مَنْ أَمَرَكِ بِهَذَا، أَعُمَرُ ؟ مَا أَظُنُّ أَنْ يَفْهَمَهُمَا، أَوَلَمْ تَكْفِهِ آيَةُ الصَّيْفِ ؟ قَالَ سُفْيَانُ: { وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلالَةً } فَلَمْ يَفْهَمْهَا، وَقَالَ: اللَّهُمَّ مَنْ فَهِمَهَا، فَإِنِّي لَمْ أَفْهَمْهَا .
مظاہر امیر خان

طاووس رحمہ اللہ نے فرمایا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو حکم دیا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کلالہ کے بارے میں سوال کریں۔ چنانچہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے کچھ دیر انتظار کیا، یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے زیب تن کر لیے تو انہوں نے سوال کیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر یہ حکم بیان کیا اور فرمایا: ”تمہیں اس کے بارے میں سوال کرنے کا کس نے کہا؟ کیا عمر نے؟ میں نہیں سمجھتا کہ وہ اسے سمجھ سکیں گے۔ کیا ان کے لیے آیتِ صیف یعنی کلالہ کے بارے میں نازل شدہ آیت کافی نہیں؟“ سفیان رحمہ اللہ نے کہا: وہ آیت یہ ہے ﴿وَإِنْ كَانَ رَجُلٌ يُورَثُ كَلَالَةً﴾ لیکن سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اسے نہیں سمجھ سکے اور دعا کی: ”اے اللہ! جسے تو سمجھائے، وہ سمجھ لے، کیونکہ میں تو نہیں سمجھ سکا۔“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 587
درجۂ حدیث محدثین: رجاله ثقات، لكنه ضعيف لإرساله، فطاوس لم يشهد الحادثة، وهو صحيح لغيره كما سيأتي.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 587، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 19194، 19195»