حدیث نمبر: 58
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي ظِبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ لِي: أَيُّ الْقِرَاءَتَيْنِ تَعُدُّونَ أَوَّلًا ؟ قُلْنَا: قِرَاءَتُنَا . فَقَالَ: لَا، بَلْ قِرَاءَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ ؛ كَانَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُعْرَضُ عَلَيْهِ الْقُرْآنُ فِي كُلِّ رَمَضَانَ، فَلَمَّا كَانَ الْعَامُ الَّذِي مَاتَ فِيهِ عُرِضَ عَلَيْهِ مَرَّتَيْنِ، فَشَهِدَ ابْنُ مَسْعُودٍ مَا نُسِخَ مِنْهُ وَمَا بُدِّلَ . !مظاہر امیر خان
ابی ظبیان رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے مجھ سے پوچھا: ”تم کس قراءت کو پہلے شمار کرتے ہو؟“ ہم نے کہا: ”ہماری قراءت کو۔“ تو انہوں نے فرمایا: ”نہیں، بلکہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قراءت کو؛ کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ہر رمضان میں قرآن کا دور کیا جاتا تھا، لیکن جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا، اس سال دو مرتبہ قرآن کا دور کیا گیا، چنانچہ ابن مسعود رضی اللہ عنہ اس بات کے گواہ تھے کہ قرآن میں کیا منسوخ کیا گیا اور کیا بدلا گیا۔“