حدیث نمبر: 552
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ سَلَمَةَ، رَجُلٍ مِنْ وَلَدِ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَلَا أَسْمَعُ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ ذَكَرَ النِّسَاءَ فِي الْهِجْرَةِ بِشَيْءٍ ؟ فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: { فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَى } إِلَى آخِرِ الْآيَةِ . قَالَ: قَالَتِ الْأَنْصَارُ: هِيَ أَوَّلُ ظَعِينَةٍ قَدِمَتْ عَلَيْنَا .
مظاہر امیر خان

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! کیا میں نہیں دیکھ رہی کہ اللہ عزوجل نے ہجرت میں عورتوں کا کوئی ذکر نہیں کیا؟ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿فَاسْتَجَابَ لَهُمْ رَبُّهُمْ أَنِّي لَا أُضِيعُ عَمَلَ عَامِلٍ مِنْكُمْ مِنْ ذَكَرٍ أَوْ أُنْثَىٰ﴾ (پس ان کے رب نے ان کی دعا قبول کر لی کہ میں تم میں سے کسی عمل کرنے والے کا عمل ضائع نہیں کرتا، خواہ وہ مرد ہو یا عورت)۔ انصار نے کہا: یہ پہلی خاتون ہیں جو ہمارے پاس ہجرت کر کے آئیں۔

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 552
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لجهالة حال سلمة، وهو صحيح لغيره لمجيئه من طريق آخر صحيح
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 552، والطبراني فى(الكبير) برقم: 651»