حدیث نمبر: 550
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا خَلَفُ بْنُ خَلِيفَةَ، قَالَ: نَا أَبُو هَاشِمٍ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: هُوَ الرَّجُلُ يَرْزُقُهُ اللهُ الْمَالَ، فَيَمْنَعُ قَرَابَتَهُ الْحَقَّ الَّذِي جَعَلَ اللهُ لَهُمْ فِي مَالِهِ، فَيُجْعَلُ حَيَّةً، فَيُطَوَّقُهَا فَيَقُولُ لِلْحَيَّةِ: مَا لِي وَمَا لَكِ ؟ فَتَقُولُ: أَنَا مَالُكَ .
مظاہر امیر خان

مسروق رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ وہ شخص ہے جسے اللہ مال عطا کرتا ہے، مگر وہ اپنے قریبی رشتہ داروں کو اس مال میں اللہ کی مقرر کردہ حق داریاں نہیں دیتا، تو وہ مال ایک سانپ بنا دیا جاتا ہے اور اس کے گلے کا طوق بنا دیا جاتا ہے۔ پھر وہ اس سانپ سے کہتا ہے: تجھ سے میرا کیا تعلق؟ تو وہ سانپ کہتا ہے: میں تیرا مال ہوں۔

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 550
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف لما تقدم عن حال خلف بن خليفة، ومعناه صحيح تقدم في الحديث الذي قبله.
تخریج حدیث «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 550، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 10805»