سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَلا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ هُوَ خَيْرًا لَهُمْ بَلْ هُوَ شَرٌّ لَهُمْ سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ} باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَلا يَحْسَبَنَّ الَّذِينَ يَبْخَلُونَ بِمَا آتَاهُمُ اللهُ مِنْ فَضْلِهِ» کا بیان
حدیث نمبر: 549
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو الْأَحْوَصِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ بَهْدَلَةَ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ - فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ } قَالَ: يُطَوَّقُ شُجَاعًا أَقْرَعَ بِفِيهِ زَبِيبَتَانِ يَنْقُرُ رَأْسَهُ، فَيَقُولُ: مَا لِي وَلَكَ ؟ فَيَقُولُ: أَنَا مَالُكَ الَّذِي بَخِلْتَ بِي .مظاہر امیر خان
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ﴿سَيُطَوَّقُونَ مَا بَخِلُوا بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ﴾ کی تفسیر میں فرمایا: وہ مال قیامت کے دن گنجے سانپ کی شکل میں اس کے گلے میں طوق بنا کر ڈال دیا جائے گا، جس کے منہ کے دونوں کناروں پر زہریلے دانت ہوں گے، وہ اس کے سر کو ڈسے گا، تو وہ کہے گا: تجھ سے میرا کیا تعلق؟ تو وہ سانپ کہے گا: میں تیرا وہ مال ہوں جس پر تو بخل کرتا تھا۔