سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ فَاخْشَوْهُمْ فَزَادَهُمْ إِيمَانًا وَقَالُوا حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ * فَانْقَلَبُوا بِنِعْمَةٍ مِنَ اللهِ وَفَضْلٍ لَمْ يَمْسَسْهُمْ سُوءٌ} باب: اللہ تعالیٰ کے قول «الَّذِينَ قَالَ لَهُمُ النَّاسُ إِنَّ النَّاسَ قَدْ جَمَعُوا لَكُمْ» کا بیان
حدیث نمبر: 544
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ مُطَرِّفٍ، عَنْ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيِّ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ أَنْعَمُ وَقَدِ الْتَقَمَ صَاحِبُ الْقَرْنِ الْقَرْنَ، وَحَنَى جَبْهَتَهُ، وَأَصْغَى سَمْعَهُ مَتَى يُؤْمَرُ، فَيَنْفُخُ فِي الصُّورِ ؟ قَالُوا: فَمَا تَأْمُرُنَا يَا رَسُولَ اللهِ ؟ قَالَ: قُولُوا: حَسْبُنَا اللهُ وَنِعْمَ الْوَكِيلُ، تَوَكَّلْنَا عَلَى اللهِ .مظاہر امیر خان
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کیسے چین سے رہ سکتے ہو، حالانکہ صاحبِ قرن نے قرن پکڑ لیا ہے اور اپنی پیشانی جھکا رکھی ہے اور کان لگا کر سن رہا ہے کہ کب اسے حکم دیا جائے گا کہ صور پھونکے؟“ تو صحابہ نے پوچھا: ”یا رسول اللہ! پھر ہمیں کیا حکم ہے؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم کہو: اللہ ہمارے لیے کافی ہے، اور وہ بہترین کارساز ہے، ہم اللہ پر بھروسہ کرتے ہیں۔“