حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ مُؤَدِّبُ أَبِي عَبْدِ اللهِ عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَبِيدَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ اللهِ: " اقْرَأْ عَلَيَّ " ! قَالَ: أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ ؟ ! فَقَالَ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي ! فَقَرَأَ سُورَةَ النِّسَاءِ حَتَّى انْتَهَى إِلَى قَوْلِهِ: { فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا } قَالَ: فَغَمَزَنِي، فَنَظَرْتُ، فَإِذَا دُمُوعُهُ تَنْحَدِرُ .عبیدہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”میرے سامنے قرآن پڑھو!“ انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ پر کیسے قرآن پڑھوں، حالانکہ یہ تو آپ پر نازل ہوا ہے؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اسے دوسروں سے سننا پسند کرتا ہوں!“ چنانچہ انہوں نے سورہ النساء کی تلاوت شروع کی، یہاں تک کہ جب اس آیت پر پہنچے: ﴿فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا﴾ [النساء: 41] (ترجمہ: ”پھر اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے؟“) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے اشارہ کیا، میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔