حدیث نمبر: 52
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا (أَبُو) الْأَحْوَصِ عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَبْدِ اللهِ: " اقْرَأْ " ! فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللهِ، كَيْفَ أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ ؟ ! قَالَ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي ! وَافْتَتَحَ عَبْدُ اللهِ سُورَةَ النِّسَاءِ، وَقَرَأَ حَتَّى بَلَغَ { فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا } ذَرَفَتْ عَيْنَاهُ، وَقَالَ: " حَسْبُكَ .
مظاہر امیر خان

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”قرآن پڑھو!“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ پر کیسے قرآن پڑھوں، حالانکہ یہ تو آپ پر نازل ہوا ہے؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اسے دوسروں سے سننا پسند کرتا ہوں!“ چنانچہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سورہ النساء کی تلاوت شروع کی اور جب اس آیت پر پہنچے: ﴿فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا﴾ [النساء: 41] (ترجمہ: ”پھر اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے؟“) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بس کرو!“

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 52
درجۂ حدیث محدثین: الحديث سنده ضعيف للانقطاع بين أبي الضحى مسلم بن صبيح وبين ابن مسعود
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»