حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ عَنِ الْمَسْعُودِيِّ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللهِ - أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ: " اقْرَأْ عَلَيَّ " ! فَقَالَ لَهُ عَبْدُ اللهِ: أَقْرَأُ عَلَيْكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ ؟ ! فَقَالَ: إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي ! فَقَرَأَ عَلَيْهِ عَبْدُ اللهِ سُورَةَ النِّسَاءِ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ: { فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا } فَاسْتَعْبَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَمْسَكَ عَبْدُ اللهِ .سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”مجھ پر قرآن پڑھو!“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! کیا میں آپ پر پڑھوں، حالانکہ یہ تو آپ پر نازل ہوا ہے؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اسے دوسروں سے سننا پسند کرتا ہوں!“ چنانچہ میں نے سورہ النساء کی تلاوت کی، یہاں تک کہ جب میں اس آیت پر پہنچا: ﴿فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا﴾ [النساء: 41] (ترجمہ: ”پھر اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے؟“) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے، اور میں خاموش ہوگیا۔