حدیث نمبر: 494
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، قَالَ: أَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ: كُنَّا جُلُوسًا مَعَ يَحْيَى بْنِ وَثَّابٍ، فَذَكَرْنَا هَذِهِ الْآيَةَ: { وَاللهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ }، وَجَاءَ الْأَسْوَدُ بْنُ يَزِيدَ فِي إِزَارٍ وَرِدَاءٍ، وَعِمَامَةٍ، فَقَامَ يُصَلِّي فِي إِزَارِهِ، وَرِدَائِهِ وَنَعْلَيْهِ، فَقُلْنَا: أَيُّكُمْ يَقُومُ إِلَيْهِ فَيَسْأَلُهُ ؟ فَقَالَ يَحْيَى: أَنَا، فَأَتَاهُ فَسَأَلَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَ إِلَيْنَا، وَقَالَ: { وَاللهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ } .
مظاہر امیر خان

عمارة بن عمیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ہم یحییٰ بن وثاب رحمہ اللہ کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے اور ہم نے یہ آیت ﴿وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ﴾ کا ذکر کیا۔ اسی دوران اسود بن یزید رحمہ اللہ ایک ازار، رداء اور عمامہ باندھ کر آئے اور اپنے ازار، رداء اور جوتوں میں نماز پڑھنے لگے۔ ہم نے کہا: کون اس سے جا کر پوچھے گا؟ یحییٰ نے کہا: میں جاتا ہوں، پھر وہ اس کے پاس گئے اور اس سے سوال کیا، پھر واپس آ کر ہم سے کہا: ﴿وَاللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا وَضَعَتْ﴾۔

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 494
درجۂ حدیث محدثین: سنده رجاله ثقات، لكن فيه الأعمش وهو مدلس ولم يصرح بالسماع، وليس هذا من المواضع التي يحتمل فيها تدليسه على ما سبق بيانه في الحديث رقم [٣].
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»