حدیث نمبر: 483
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا سُفْيَانُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ نُبَيْطٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الضَّحَّاكَ بْنَ مُزَاحِمٍ يَقُولُ: جَاءَ بِهَا جِبْرِيلُ، وَمَعَهُ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مَا شَاءَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: { آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْـزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ }، إِلَى قَوْلِهِ: { رَبَّنَا لا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا }، قَالَ: ذَاكَ لَكَ، { أَوْ أَخْطَأْنَا } قَالَ: ذَاكَ لَكَ، { رَبَّنَا وَلا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا } قَالَ: ذَاكَ لَكَ، { وَلا تُحَمِّلْنَا مَا لا طَاقَةَ لَنَا بِهِ } قَالَ: ذَاكَ لَكَ، { وَاعْفُ عَنَّا } قَالَ: ذَاكَ لَكَ، { وَاغْفِرْ لَنَا } قَالَ: ذَاكَ لَكَ، { وَارْحَمْنَا } قَالَ: ذَاكَ لَكَ، { أَنْتَ مَوْلانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ } قَالَ: ذَاكَ لَكَ .
مظاہر امیر خان

ضحاک بن مزاحم رحمہ اللہ نے فرمایا: جبرائیل علیہ السلام یہ آیات لے کر آئے اور ان کے ساتھ جتنے فرشتے اللہ نے چاہا، وہ بھی تھے: ﴿آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ﴾ سے لے کر ﴿رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا﴾ تک، تو فرمایا: یہ تمہارے لیے ہے، ﴿أَوْ أَخْطَأْنَا﴾ تو فرمایا: یہ تمہارے لیے ہے، ﴿رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا﴾ تو فرمایا: یہ تمہارے لیے ہے، ﴿وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ﴾ تو فرمایا: یہ تمہارے لیے ہے، ﴿وَاعْفُ عَنَّا﴾ تو فرمایا: یہ تمہارے لیے ہے، ﴿وَاغْفِرْ لَنَا﴾ تو فرمایا: یہ تمہارے لیے ہے، ﴿وَارْحَمْنَا﴾ تو فرمایا: یہ تمہارے لیے ہے، ﴿أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ﴾ تو فرمایا: یہ تمہارے لیے ہے۔

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 483
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف جدًّا لإعضاله، فالضحاك تقدم في الحديث [٤٨١]
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»