حدیث نمبر: 474
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا عَتَّابُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ خُصَيْفٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ - فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ } - قَالُوا: فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَيْهِمْ، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّا لِنُحَدِّثُ أَنْفُسَنَا بِشَيْءٍ مَا يَسُرُّنَا أَنْ يَطَّلِعَ عَلَيْهِ أَحَدٌ مِنَ الْخَلَائِقِ، وَأَنَّا لَنَا كَذَا وَكَذَا ؟ قَالَ: أَوَقَدْ لَقِيتُمْ هَذَا ؟ ذَلِكَ صَرِيحُ الْإِيمَانِ، فَأَنْزَلَ اللهُ عَزَّ وَجَلَّ: { آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْـزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ }، الْآيَتَيْنِ .
مظاہر امیر خان

مجاہد رحمہ اللہ نے ﴿وَإِنْ تُبْدُوا مَا فِي أَنْفُسِكُمْ أَوْ تُخْفُوهُ﴾ کے بارے میں فرمایا: یہ آیت صحابہ پر سخت گزری، انہوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہم اپنے دل میں کچھ ایسی باتیں پاتے ہیں جن کا ظاہر ہونا ہمیں پسند نہیں، تو کیا ہمارا مؤاخذہ ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کیا تمہیں واقعی یہ مسئلہ درپیش ہے؟ یہی تو خالص ایمان ہے۔ پھر اللہ عزوجل نے ﴿آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنْزِلَ إِلَيْهِ مِنْ رَبِّهِ﴾ کی آیات نازل فرمائیں۔

حوالہ حدیث سنن سعید بن منصور / كتاب التفسير / حدیث: 474
درجۂ حدیث محدثین: سنده ضعيف جدًّا لإرساله، ولضعف خصيف من قبل حفظه وما تقدم عن رواية عتّاب عنه.
تخریج حدیث «انفرد به المصنف من هذا الطريق»