سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ فَإِنْ لَمْ يَكُونَا رَجُلَيْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّنْ تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّهَدَاءِ} باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ» کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدٍ، قَالَ: سَأَلْتُ مُجَاهِدًا عَنِ الظِّهَارِ مِنَ الْأَمَةِ، فَقَالَ: لَيْسَ بِشَيْءٍ، فَقُلْتُ: أَلَيْسَ اللهُ يَقُولُ: { وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ } أَفَلَسْنَ مِنَ النِّسَاءِ ؟ فَقَالَ: وَاللهُ يَقُولُ: { وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ } أَفَتَجُوزُ شَهَادَةُ الْعَبِيدِ ؟ .مجاہد رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ اگر کوئی شخص اپنی لونڈی سے ظہار کرے تو کیا حکم ہوگا؟ انہوں نے فرمایا: ”یہ ظہار کچھ بھی نہیں۔“ پوچھا گیا: ”کیا اللہ عزوجل نے نہیں فرمایا: ﴿وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنْ نِسَائِهِمْ﴾ ’اور جو اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں‘، تو کیا وہ لونڈیاں عورتوں میں شامل نہیں؟“ اس پر مجاہد رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اللہ عزوجل نے یہ بھی فرمایا: ﴿وَاسْتَشْهِدُوا شَهِيدَيْنِ مِنْ رِجَالِكُمْ﴾ ’اور اپنے لوگوں میں سے دو مرد گواہ بنا لو‘، تو کیا غلاموں کی گواہی جائز ہے؟“ یعنی جیسے گواہی کے معاملے میں مردوں کی قید لگائی گئی اور غلام اس میں شامل نہیں، اسی طرح ”بیویوں“ کے حکم میں بھی آزاد عورتیں مراد ہیں، لونڈیاں نہیں۔