سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ} باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ» کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا هُشَيْمٌ، قَالَ: نَا يُونُسُ، وَهِشَامٌ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ رَجُلَيْنِ اخْتَصَمَا إِلَى شُرَيْحٍ فِي حَقٍّ كَانَ لِأَحَدِهِمَا قِبَلَ الْآخَرِ، فَقَضَى عَلَيْهِ شُرَيْحٌ، وَأَمَرَ بِحَبْسِهِ، فَقَالَ رَجُلٌ عِنْدَهُ: إِنَّهُ مُعْسِرٌ، وَاللهُ عَزَّ وَجَلَّ يَقُولُ فِي كِتَابِهِ: { وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ } قَالَ: ذَلِكَ فِي الرِّبَا، وَاللهُ يَقُولُ: { إِنَّ اللهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا }ابن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ دو آدمی ایک معاملے میں شریح قاضی رحمہ اللہ کے پاس مقدمہ لے کر گئے، ان میں سے ایک کا دوسرے پر حق تھا۔ شریح نے فیصلہ اس کے حق میں دے دیا اور دوسرے شخص کو قید کرنے کا حکم دیا۔ وہاں موجود ایک شخص نے کہا: ”یہ تو تنگدست ہے، اور اللہ عزوجل اپنی کتاب میں فرماتے ہیں: ﴿وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَىٰ مَيْسَرَةٍ﴾ ’اور اگر مقروض تنگدست ہو تو اسے مہلت دو یہاں تک کہ آسانی حاصل ہو‘۔“ شریح رحمہ اللہ نے جواب دیا: ”یہ آیت سود کے معاملے میں ہے، اور اللہ عزوجل فرماتے ہیں: ﴿إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَىٰ أَهْلِهَا﴾ ’بےشک اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں ان کے اہل کے حوالے کرو‘۔“