سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ} باب: اللہ تعالیٰ کے قول «لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ» کا بیان
حدیث نمبر: 431
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللهِ، عَنْ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ وَسَقٍ ؟؟ قَالَ: كُنْتُ مَمْلُوكًا لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ، وَكُنْتُ نَصْرَانِيًّا، فَكَانَ يَقُولُ لِي: يَا وَسْقُ ؟؟، أَسْلِمْ، فَإِنَّكَ لَوْ أَسْلَمْتَ لَوَلَّيْتُكَ بَعْضَ أَعْمَالِ الْمُسْلِمِينَ، فَإِنَّهُ لَا يَصْلُحُ أَنْ يَلِيَ أَمْرَهُمْ مَنْ لَيْسَ عَلَى دِينِهِمْ، فَأَبَيْتُ عَلَيْهِ، فَقَالَ لِي: { لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ }، فَلَمَّا مَاتَ عُمَرُ أَعْتَقَنِي .مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا ایک غلام، جو نصرانی تھا، کہتا ہے: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ مجھ سے فرماتے: اے وسق! اسلام قبول کر لو، اگر تم اسلام لے آؤ تو میں تمہیں مسلمانوں کے کچھ معاملات کا نگران بنا دوں گا، کیونکہ ان کے معاملات کی سربراہی وہی کر سکتا ہے جو ان کے دین پر ہو۔ لیکن میں نے انکار کر دیا، تو انہوں نے فرمایا: ﴿لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ﴾ (دین میں کوئی جبر نہیں)۔ پھر جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا انتقال ہو گیا تو انہوں نے مجھے آزاد کر دیا۔