حدیث نمبر: 43
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ - أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَرَأَ عَلَى الْمِنْبَرِ { وَفَاكِهَةً وَأَبًّا }، فَقَالَ: هَذِهِ الْفَاكِهَةُ قَدْ عَرَفْنَاهَا، فَمَا الْأَبُّ ؟ ثُمَّ رَجَعَ إِلَى نَفْسِهِ، فَقَالَ: لَعَمْرُكَ إِنَّ هَذَا لَهُوَ التَّكَلُّفُ يَا عُمَرُ . !مظاہر امیر خان
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے منبر پر ﴿وَفَاكِهَةً وَأَبًّا﴾ [عبس: 31] کی تلاوت کی، پھر فرمایا: ”یہ فاکہہ (پھل) تو ہم جانتے ہیں، مگر ’ابّ‘ کیا ہے؟“ پھر خود ہی سوچ کر فرمایا: ”اے عمر! یہ تو محض تکلف (یعنی غیر ضروری بحث) ہے۔“