سنن سعید بن منصور
كتاب التفسير— تفسیر کی کتاب
قَوْلُهُ تَعَالَى: {لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ} باب: اللہ تعالیٰ کے قول «لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ» کا بیان
حَدَّثَنَا سَعِيدٌ قَالَ: نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ - فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ: { لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ } - قَالَ: نَزَلَتْ فِي الْأَنْصَارِ، قَالَ: قُلْتُ: خَاصَّةً ؟ قَالَ: خَاصَّةً، كَانَتِ الْمَرْأَةُ مِنْهُمْ إِذَا كَانَتْ نَزْرَةً، أَوْ مِقْلَاتًا، تَنْذُرُ: لَئِنْ وَلَدَتْ وَلَدًا لَتَجْعَلَنَّهُ فِي الْيَهُودِ، تَلْتَمِسُ بِذَلِكَ طُولَ بَقَائِهِ، فَجَاءَ الْإِسْلَامُ وَفِيهِمْ مِنْهُمْ، فَلَمَّا أُجْلِيَتِ النَّضِيرُ قَالَتِ الْأَنْصَارُ: يَا رَسُولَ اللهِ، أَبْنَاؤُنَا وَإِخْوَانُنَا فِيهِمْ ؟ فَسَكَتْ عَنْهُمْ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَنَزَلَتْ: { لا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ } فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: قَدْ خُيِّرَ أَصْحَابُكُمْ، فَإِنِ اخْتَارُوكُمْ فَهُمْ مِنْكُمْ، وَإِنِ اخْتَارُوهُمْ فَأَجْلُوهُمْ مَعَهُمْ .سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ اللہ عزوجل کے فرمان ﴿لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ﴾ کے بارے میں فرمایا: یہ آیت انصار کے بارے میں نازل ہوئی۔ میں نے پوچھا: ”خاص طور پر ان کے لیے؟“ انہوں نے کہا: ”ہاں، خاص طور پر ان کے لیے۔“ کیونکہ انصار میں جب کوئی عورت کم اولاد والی یا بانجھ ہوتی تو وہ نذر مانتی کہ اگر اسے بچہ ہوا تو وہ اسے یہودیوں میں دے دے گی تاکہ اس کی عمر دراز ہو۔ جب اسلام آیا تو انصار میں ایسے بچے موجود تھے جو یہودیوں کے ساتھ تھے۔ پھر جب بنو نضیر کو جلاوطن کیا گیا تو انصار نے عرض کیا: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! ہمارے بیٹے اور بھائی ان کے ساتھ ہیں؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خاموشی اختیار فرمائی، تب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿لَا إِكْرَاهَ فِي الدِّينِ﴾ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تمہارے ساتھیوں کو اختیار دیا گیا ہے، اگر وہ تمہیں اختیار کریں تو وہ تم میں شامل ہوں گے، اور اگر وہ انہیں اختیار کریں تو انہیں ان کے ساتھ بھیج دو۔“